خطبات محمود (جلد 4) — Page 386
خطبات محمود جلد ۴ سال ۱۹۱۵ء کے سامنے جاتا ہے اور اسے کہتا ہے کہ میرے خدا کی فرمانبرداری کرو اور میرے حکموں کو مانو۔فرعون نے بجائے اس کے کہ اس کی اطاعت کرتا نافرمانی کی اور اپنے مقابلہ میں کچھ نہ سمجھا۔دنیاوی لحاظ سے واقعی موسیٰ علیہ السلام کی کیا طاقت تھی کہ فرعون جیسے بادشاہ کو یہ کہتا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دو جب وہ اس سے انکار کرتا تو یہ کہتا کہ تم نے میرا کہا نہیں مانا میرا خدا ایسا ہے جو تمہیں سزا دے گا لیکن فرعون نے جب موسیٰ علیہ السلام کا مقابلہ کیا تو ایسی حالت میں غرق ہوا جبکہ اس نے موسیٰ علیہ السلام کو اپنی آنکھوں کے سامنے اسی دریا سے صحیح و سلامت پار جاتے ہوئے دیکھا۔پھر اس نے غرق ہوتے وقت کیسے دردناک الفاظ کہے۔آمَنْتُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا الَّذِي أَمَنَتْ بِهِ بَنُوا إِسْرَائِيل اوى موسیٰ ہارون جن کو وہ گالیاں دیتا تھا اب انہیں کے متعلق کہتا ہے کہ میں ان کے رب پر ایمان لاتا ہوں۔یہ کہ کر اس نے اپنے انتہائی خشوع و خضوع کا اظہار کیا ہے کہ اب میرا تکبر ایسا ٹوٹا ہے کہ یہی موسیٰ و ہارون جن کی میں ہتک کرتا اور حقارت سے دیکھتا تھا انہی کی پیروی اور غلامی کرنے کو تیار ہوں۔غرض بڑے بڑے گردن کش گزرے ہیں مگر خدا تعالیٰ نے ان کو تباہ و برباد کر کے ان کا نام و نشان مٹا دیا۔پس کیسا خوش قسمت ہے وہ انسان جس کو وہ بادشاہ بلائے اور ملاقات کا موقع دے جو تمام بادشاہوں کا بادشاہ ہے اور جسے یہ کہے کہ جو تم سے دشمنی کرتا ہے وہ مجھ سے کرتا ہے اور جو تجھ پر حملہ کرتا ہے وہ مجھ پر کرتا ہے اور جو تیرا انکار کرتا ہے وہ میرا انکار کرتا ہے جب یہ آواز کسی انسان کو خدا کی طرف سے آتی ہوگی تو اس کی کیا حالت ہوتی ہوگی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد میں نے آپ کی ایک ڈائری دیکھی۔اس میں لکھا تھا کہ دنیا کے لوگ مجھے طرح طرح سے ڈراتے اور دھمکیاں دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں اپنے پیاروں کو چھوڑ دوں لیکن رات کے وقت جب مجھے میرے عزیز سے عزیز چھوڑ چکے ہوتے ہیں تو وہ میرے پاس آکر مجھے تسلی دیتا اور باتیں کرتا ہے ، بھلا اس کو میں کس طرح چھوڑ دوں۔غرض اس حالت کا اندازہ جو خدا تعالیٰ کے ساتھ کلام کرنے سے پیدا ہوتی ہے سوائے اس کے جس پر یہ حالت وارد ہو اور کوئی نہیں لگا سکتا۔ہاں جن لوگوں کا ایسے انسانوں سے تعلق ہو جائے جو خدا تعالیٰ کے ساتھ شرف مکالمہ رکھتے ہیں وہ جس طرح خدا تعالیٰ کو دیکھتے ہیں دوسرے نہیں دیکھ سکتے۔