خطبات محمود (جلد 4) — Page 369
خطبات محمود جلد ۴ سال ۱۹۱۵ء اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ وہ سزا کے قابل ہوجاتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کے کسی دشمن کو کھڑا کر دیتا ہے جو اس پر جھوٹا الزام لگا تا اور بدنام کرنا چاہتا ہے۔لیکن وہ چونکہ دراصل سچا ہوتا ہے اس لئے سمجھدار لوگوں کے نزدیک وہ مظلوم سمجھا جاتا ہے اور اس طرح اس کی عزت ہو جاتی ہے۔اگر وہ بات جو اس پر الزام کے طور پر قائم کی گئی تھی صحیح ہوتی تو بے شک وہ بد نام اور بے عزت ہوتا لیکن دشمن کے افتراء اور جھوٹ بولنے کی وجہ سے اس کی عزت ہو جاتی ہے۔کہتے ہیں کہ ایک دن رنجیت سنگھ کے لڑکے کے باورچی نے کھانے میں نمک زیادہ ڈال دیا تو اس نے ملازم کو حکم دیا کہ اسے سو کوڑے مارو۔اس نے کہا حضور یہ تو اس پر بہت بڑا ظلم ہے کہ نمک کی زیادتی کی وجہ سے اتنی سخت سزا دی جائے۔اس نے کہا میں نے تو اس پر احسان کیا ہے اس نے تو ہمارے کئی سو بکرے کھالئے ہیں۔اب میں نے چھوٹی سی بات پر اس کو اس لئے سخت سزا دی ہے کہ لوگوں کے نزدیک اس کی عزت بنی رہے اور بدنامی نہ ہو کیونکہ وہ تو یہی سمجھیں گے کہ بے چارے کو نمک کی زیادتی کی وجہ سے مارا گیا ہے اور اصل بات ان سے پوشیدہ رہے گی۔بڑے لوگ خدا تعالیٰ کے اخلاق کے مظہر ہوتے ہیں اس لئے یہ بھی لوگوں سے ایسا ہی سلوک کرتے ہیں کہ کسی کی بدنامی نہ ہو بلکہ عزت ہی قائم رہے۔تو یہ خدا تعالیٰ نے فضل کیا ہے کہ ہمارے مخالفوں کو ہمارے پوشیدہ عیب نظر نہیں آتے اور انہیں اندھا کر دیا ہے اس لئے اب وہ جھوٹ بنانے پر اتر آئے ہیں۔لیکن جب ہم نے خدا کی محبت کیلئے انہیں دور کر دیا ہے تو پھر ان کے حملے ہمارا کیا بگاڑ سکتے ہیں۔مگر تم لوگ یاد رکھو کہ تمہارے بھی بہت دشمن ہیں لیکن تمہیں ان سے خواہ کتنا ہی خطر ناک مقابلہ کرنا پڑے تم جھوٹ ہرگز نہ بولنا۔اگر کوئی تمہاری باتوں کو نہیں مانتا تو نہ مانے تم کوئی داروغہ نہیں ہو۔آنحضرت سالی ایم کوخدا تعالیٰ نے داروغہ بنا کر نہیں بھیجا تو تم کون ہو۔اللہ تعالی آنحضرت ملال ہی تم کو فرماتا ہے کہ تم کو ہم نے مصیطر کر کے نہیں بھیجا۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نگر ان اور داروغہ نہیں تو ہمارا تمہارا بھی اتنا ہی کام ہے کہ لوگوں تک حق کو پہنچادیں آگے جو خدا تعالیٰ مناسب سمجھے گا کرے گا۔جس کو وہ آرام اور آسائش کا مستحق سمجھے گا اسے آرام و آسائش دے گا اور جسے سزا اور عتاب کے قابل پائے گا اس سے ایسا ہی سلوک کرے گا۔بہت لوگ ہوتے ہیں جو حق کی بڑی مخالفت کرتے ہیں مگر مرنے سے پہلے ہدایت پا جاتے ہیں۔تو کسی انسان کے اختیار میں یہ بات نہیں کہ دوسرے کو اپنی بات منوا بھی لے یہ