خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 347 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 347

خطبات محمود جلد ۴ ۳۴۷ سال ۱۹۱۵ء سفک دم کرے گی ۲ اس لئے انہوں نے حصول علم کیلئے سوال کیا۔اس کے مقابلہ میں ابلیس نے بھی حضرت آدم کا انکار کیا ہے لیکن اس کا انکار تکبر اور شرارت سے تھا۔چنانچہ اس نے کہا کہ اس کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے اور مجھے آگ سے ، میں اس کی اطاعت کس طرح کر سکتا ہوں۔۳ ملائکہ نے ایسا نہیں کہا تھا بلکہ یہ کہا تھا کہ خلیفہ کی تو اُس وقت ضرورت ہوتی ہے جبکہ فساد کا خطرہ ہو۔پس آپ کے خلیفہ بنانے سے یہ بھی نتیجہ نکلتا ہے کہ آپ کوئی ایسی مخلوق بھی پیدا کریں گے جو فساد کرے گی اس کی پیدائش کی غرض ہم کو بتائی جائے۔گو یہ بھی اعتراض ہی تھا مگر تکبر اور غرور کی وجہ سے نہ تھا بلکہ ایک رنگ میں علم حاصل کرنے کے لئے کیا گیا تھا۔ابلیس کی اعتراض کرنے کی یہ غرض نہیں تھی بلکہ اسے حسد تھا کہ کیوں اسے بڑا بتایا ہے اور مجھے چھوٹا قرار دیا ہے۔ملائکہ کو تو مانے کی توفیق مل گئی مگر ابلیس کو نہ ملی اور وہ ہمیشہ کیلئے راندہ گیا۔پس اختلاف کوئی بری چیز نہیں ہے، اختلاف ہوا ہی کرتے ہیں اور لوگ اعتراض کیا ہی کرتے ہیں لیکن جو نیک نیتی سے ایسا کرتے ہیں وہ تو ہدایت پا جاتے ہیں اور جو حسد، بغض اور کینہ اور بد نیتی سے کرتے ہیں انہیں ہدایت نصیب نہیں ہوتی۔حضرت مسیح موعود نے جب پہلے پہل دعوی کیا تو صرف چند آدمی آپ کے ساتھ تھے اور باقی تمام لوگ مخالفت میں کھڑے ہو گئے تھے اور آپ پر اعتراض کرنے لگ گئے لیکن جوں جوں انہی لوگوں کو جو اعتراض کرتے تھے سمجھ آتی گئی مانتے گئے۔پس جہاں مخالفت بغیر حسد اور ضد کے ہوتی ہے وہاں بہت کچھ امید ہو سکتی ہے کہ شاید سمجھ آ جائے لیکن جہاں ایسا نہ ہو وہاں کچھ امید بھی نہیں ہوسکتی کیونکہ ایسے لوگ بہت دور نکل جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں ایسے ہی لوگوں کے متعلق فرمایا ہے کہ آلخم تَرَ إِلَى الَّذِيْنَ اُوْتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتب يُؤمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ وَيَقُولُونَ لِلَّذِينَ كَفَرُوْا هَؤُلَاءِ أَهْدَى مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا سَبِيلًا۔ان اہل کتاب کو دیکھو ان کی طرف خدا نے کتاب نازل کی تھی اور یہ خدا کے انبیاء کو مانتے ہیں لیکن باوجود اس کے کہ خدا کا کلام ان کے پاس موجود ہے اور ایک ایسا نبی ان کے زمانہ میں پیدا ہوا ہے جو اُن کے انبیاء کو پہچاننے والا اور ان کی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے خدا کی تو حید کو پھیلاتا ہے لیکن یہ ہٹ اور ضِد میں ایسے بڑھے ہیں کہ ایک طرف تو شریر مشرکوں اور شیطان کے پرستاروں کی پیروی کرتے ہیں اور ان کی باتوں کو