خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 338 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 338

خطبات محمود جلد ۴ ۳۳۸ سال ۱۹۱۵ء ہماری لاہوری جماعت نے متفقا زور شور سے عرضداشت بھیجی کہ وہاں جنازہ پڑھا جائے اور پھر نوٹس دیا جائے کہ سب لوگ جماعت کے ہر شہر میں اسی طریق پر جنازہ پڑھیں اور اس سے نوجوانوں کو یقین ہوگا کہ ہمارا فرقہ صلح کل فرقہ ہے۔اس پر حضرت صاحب کا چہرہ سرخ ہو گیا۔فرمایا۔اور لوگ نفاق سے کوئی کارروائی کریں تو بچ بھی جائیں مگر ہم پر تو ضرور غضب الہی نازل ہو۔کے پس اس روایت کے مقابلہ میں یہ روایت پیش ہو گئی ہے مگر حضرت مسیح موعود کے عمل کے مقابلہ میں عمل کو ئی نہیں پیش کیا جا سکتا۔پھر جو یہ پیش کیا جاتا ہے کہ ایک شخص نے حضرت مسیح موعود کو کہا کہ میری والدہ مرگئی ہے اس کا جنازہ پڑھا جائے تو آپ نے کہا کہ پڑھو۔اس سے معلوم ہوا کہ آپ نے غیر احمدی کا جنازہ پڑھنے کی اجازت دی ہے۔ہم کہتے ہیں کہ اس سوال سے کہاں معلوم ہوتا ہے کہ آیا اس نے آپ کو یہ بھی بتایا تھا کہ میری والدہ احمدی ہے یا نہیں۔جب اس نے یہ بتایا ہی نہیں تو پھر یہ کہاں سے ثابت ہو گیا کہ غیر احمدی کے جنازہ کی آپ نے اجازت دے دی۔اور یہ کہنا کہ اس شخص نے چونکہ دو سال پہلے اپنی ماں کے احمدی ہونے کیلئے دعا کروائی تھی اس لئے ثابت ہوا کہ آپ کو اس کے غیر احمدی ہونے کی خبر تھی۔یہ بھی بہت ہی فضول بات ہے کیونکہ آپ ایسی باتوں کو کہاں یادرکھتے تھے ایک دفعہ ایک آدمی یہاں آیا حضرت خلیفتہ المسیح الاول نے اس کو کہا کہ آؤ میں تمہیں حضرت صاحب سے ملا دوں۔اس نے کہا مجھے حضرت صاحب جانتے ہیں، میں خود مل لوں گا۔وہ جا کر دو گھنٹے تک دباتا رہا لیکن آپ نے اس کو نہ پہچانا تو انبیاء لغو اور بے فائدہ باتوں کو کہاں یا درکھتے ہیں۔وہ تو اس بات کو یادرکھتے ہیں جس کیلئے وہ آتے ہیں چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بعض دفعہ ایسے ایسے حوالے نکال لیتے تھے کہ بڑے بڑے مولوی حیران رہ جاتے تھے۔پھر ہم قرآن شریف کو دیکھتے ہیں ابھی میں نے جو آیتیں پڑھی ہیں ان میں یہی ذکر ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ منافق لوگ جو تمہارے ساتھ مل کر کام نہیں کرتے ، جہاد میں نہیں جاتے ، اللہ کے راستے میں مال خرچ نہیں کرتے اور مسلمانوں سے ٹھٹھے کرتے ہیں ان کیلئے دردناک عذاب ہے۔تو خدا تعالیٰ نے با وجود ان کے ظاہرہ طور پر مسلمان ہونے کے رسول کریم کو فرمایا