خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 316 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 316

خطبات محمود جلد ۴ سال ۱۹۱۵ء پر محفوظ نہیں تھے جو انہیں جوش دلاتے ، فنون جنگ سے واقفیت نہ تھی۔اور پھر یہی نہیں کہ صحابہ کی یہ حالت تھی تو دشمن کوئی زیادہ طاقتور نہیں تھا بلکہ ان کے مقابلہ میں رومی اور ایرانی بڑے مالدار، بڑے بہادر، بڑے رُعب دار اور بڑے فنون جنگ کے ماہر تھے اور یورپ اور ایشیاء کے بڑے بڑے ملکوں پر انہی دو قوموں کا قبضہ تھا۔رومی قسطنطنیہ ، اناطولیہ، ٹیونس ، آرمینیا کا کیشیا، بلغاریہ سرویہ وغیرہ ملکوں پر حکمران تھے۔اور ایرانیوں کے پاس ایران، عراق عجم ،خراسان وغیرہ ملک تھے۔ایشیاء اور چین کے لوگ ان کے باجگزار تھے۔ہندوستان کی ریاستوں اور کا بل و بلوچستان کے علاقوں سے بھی یہ روپیہ وصول کرتے تھے۔تو حکومت اور تعداد کے لحاظ سے ان کی یہ وسعت تھی۔مال ان کے پاس اتنا تھا کہ فرش پر ایک ایک قالین تین تین کروڑ روپیہ کا ہوتا تھا اور ایک ایک افسر کی تلوار ہزاروں اور لاکھوں روپوں کی قیمت رکھتی تھی۔فنونِ جنگ کے بھی بہت بڑے ماہر تھے یہی تو وجہ تھی کہ وہ اتنے بڑے علاقہ پر حکمران تھے۔سامانِ جنگ بھی ان کے پاس کافی تھا کیونکہ پرانی سلطنتیں تھیں اور رعب بھی بڑا تھا۔لیکن باوجود ان تمام باتوں کے ان میں پائے جانے کے اور مسلمانوں میں نہ پائے جانے کے ان کے پاؤں مسلمانوں کے سامنے نہیں ٹھہر سکتے تھے۔مسلمانوں کی تھوڑی سی فوج ہوتی مگر ان کے مقابلہ پر اڑنے کی کسی میں طاقت نہ تھی۔مسلمان ایک ہی وقت میں ایک طرف رومیوں سے جنگ کر رہے ہوتے تو دوسری ہے طرف ایرانیوں سے برسر پیکار ہوتے تھے اور انہوں نے تمام دنیا کو اپنے آگے لگایا ہوا تھا۔کیوں؟ اس لئے ہے کہ یہ حکم ان کے پیش نظر تھا وَلَا تَهِنُوا فِي ابْتِغَاءِ الْقَوْمِ کہ اسلام کے دشمنوں کو پکڑنے اور انہیں سزا دینے میں ضعف اور کمزوری نہ دکھانا۔جو قوم اس نصب العین کو لے کر نکلتی ہے اس کو کوئی روک روک نہیں سکتی اور پھر جبکہ قرآن نے ان کو یہ بتا دیا تھا کہ اِن تَكُونُوا تَأْلَمُونَ فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمُونَ وَتَرْجُونَ مِنَ الله مالا يَرْجُونَ۔یعنی اے مسلمانو! اٹھو اور اپنے دشمنوں کا مقابلہ کرنا شروع کر دو۔اگر وہ تمہیں تلوار کے ذریعہ کسی قسم کا ضعف پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں تو تم بھی تلوار ہی سے ان کا مقابلہ کرو اور اگر وہ تلوار سے مقابلہ نہیں کرتے تو تم بھی تلوار کو ہاتھ میں نہ لو کیونکہ تمہیں تلوار کو ہاتھ میں لینے کی اجازت تو جان بچانے اور دشمن کے ضرر سے محفوظ رہنے کیلئے دی گئی ہے۔جب تمہارا دشمن ہی تلوار سے