خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 298

خطبات محمود جلد ۴ ۲۹۸ سال ۱۹۱۵ء چاہتا کہ کوئی روک تمہارے راستہ میں اڑ سکے۔پس تم بھی شیطان کی کسی روک سے نہ گھبراؤ ، وہ روکیں ڈالا ہی کرتا ہے۔اس فتنہ کے دور ہونے کیلئے خدا تعالیٰ سے دعائیں کرو مگر ساتھ ہی اپنے اصلی کام کو پیش نظر رکھو اور باطل مذاہب کی کمزوریوں کو لوگوں کے سامنے رکھ دو اور اسلام کی حقانیت اور صداقت سے ان کو آگاہ کر دو۔یہ ہے وہ کام جو آج اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعہ کروانا چاہتا ہے۔گوشیطان چاہتا ہے کہ تفرقہ کے ذریعہ روک ڈال دے۔لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی سنت کے خلاف ہے کہ شیطان تم پر کامیاب ہو سکے۔پس ایک طرف تمہارا یہ کام ہے کہ اس اندرونی دشمن کو جو پیدا ہو گیا ہے بے حس و حرکت کر دو اور اس کے دھوکا میں ہر گز نہ آؤ۔اور دوسری طرف اپنے بیرونی دشمنوں کا مقابلہ کرتے رہو کیونکہ دانا وہی انسان ہے جو دونوں طرف کے حملہ سے بچنے کیلئے مستعد اور تیار رہتا ہے۔ہمارے لئے یہ آزمائش کا وقت ہے کیونکہ ایک طرف اندرونی دشمن کا مقابلہ ہے تو دوسری طرف بیرونی کا اس لئے تم خدا تعالیٰ کے حضور دعائیں کرو کہ وہ تمہیں اس ابتلاء میں کامیاب کرے اور اسلام کا قدم آگے ہی آگے ہو۔تم اپنے دلوں کو مضبوط کرو اور خدا تعالیٰ کے اس وعدہ کو یاد رکھو کہ ہم شیطانی کاموں کو مٹاتے ہیں اور انبیاء کے کاموں کو بڑھاتے ہیں۔ہم حق پر ہیں اور یقینا حق پر ہیں اس لئے ہمارے مقابلہ کرنے والوں کا نام و نشان ہی مٹ جائے گا اور ان کی کوئی حیثیت نہ رہے گی۔اور وہ اس طرح کہ وہ یا تو ہم میں ہی شامل ہو جائیں گے یا غیروں میں مل جائیں گے یا ایسے کمزور ہو جائیں گے کہ ان کا ہونا اور نہ ہونا برا بر ہوگا۔یہ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے اور سچا وعدہ ہے پس تم لوگ اپنے آپ کو اس قابل بناؤ کہ خدا تعالیٰ تم پر اپنے انعامات نازل کرے اور اپنے اندر بہت بڑی اصلاح کرو تا تمہاری خاطر دنیا میں اصلاح ہو۔اپنے اندر بہت بڑی تبدیلی کرو تا تمہارے لئے دنیا میں تبدیلی ہو۔تم اس یقین اور ایمان کو لے کر اٹھو، تم پر دشمن کبھی غالب نہیں آسکتا۔اگر دشمن کی فوج کروڑوں کروڑ بھی ہو تو بھی وہ تم پر غالب نہیں آسکتا اور تمہارا ہی قدم آگے ہوگا اور اللہ تمہارے دشمن کو ہی مٹائے گا اور تمہیں غالب کرے گا کیونکہ فرماتا ہے وَاللهُ عَلِيمٌ حَکیم اللہ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔دنیا میں دو طرح سے ہی کام بگڑا کرتے ہیں۔اول اس طرح کہ انسان کو علم نہیں ہوتا۔مثلاً ایک شخص کسی کے بیٹے کو اس کی غیر موجودگی میں قتل کر دیتا ہے؟ اور باپ اپنے بیٹے کی مدد کیلئے کچھ نہیں کر سکتا۔کیوں؟ اس لئے کہ اسے اس کے متعلق کچھ علم نہیں ہوتا۔لیکن