خطبات محمود (جلد 4) — Page 297
خطبات محمود جلد ۴ ۲۹۷ سال ۱۹۱۵ء جا تا تو کسی حد تک درست بھی ہوتا لیکن اس وقت اس میں ذرا بھی صداقت نہیں ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام آئے اور اپنے متعلق ایسے کسر نفسی کے کلمات استعمال کئے کہ کسی اور نبی کے ایسے الفاظ پیش ہی نہیں کئے جاسکتے۔آپ فرماتے ہیں:۔کرم خاکی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد ہوں ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار لوگ کہتے ہیں کہ نالائق نہیں ہوتا قبول میں تو نالائق بھی ہو کر پا گیا درگاہ میں بار چونکہ شیطان کا اس زمانہ میں آخری حملہ ہونا تھا جس کے متعلق تمام انبیاء خبر دیتے آئے تھے، اس کی لئے اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کے سر کو اچھی طرح کچلا۔مگر شیطان نے کہا کہ "کرم خاکی ہوں تو انہوں نے کہہ دیا ہے، اب دوسری طرح داؤ لگانا چاہیئے کہ درجہ کو گھٹانا چاہیئے۔نادان انسان کہتا ہے کہ جماعت میں غلو پیدا ہو گیا ہے۔ہم کہتے ہیں کہ یہ جھوٹ ہے کیونکہ کسی نبی کے زمانہ میں یا اس کے وفات پانے کے ساتھ ہی ایسا نہیں ہو سکتا۔پھر ہم کہتے ہیں کہ اگر پہلے لوگوں نے انبیاء کا درجہ بڑھایا اور غلو سے کام لیا تو آج حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شان کو گھٹانے والے پیدا ہونے چاہئیں۔کیونکہ غلو کے رستہ سے شیطان کے حملہ کو تو حضرت مسیح موعود نے روک دیا اور اب یہ نہیں ہو سکتا۔البتہ تفریط کا رستہ رہ گیا تھا اس لئے کچھ ایسے لوگ کھڑے ہو گئے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا درجہ گھٹانا شروع کر دیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم شیطانی کام گھٹاتے اور انبیاء کے کام کو بڑھاتے ہیں اس لئے ہمیں اس روک سے ذرا بھی ملول خاطر نہ ہونا چاہیئے۔لیکن اس کے علاوہ ہمیں اور کام بھی کرنا ہے۔شیطان تو چاہتا ہے کہ ان میں روکیں ڈال دوں اور یہ انہیں کے دور کرنے میں لگے رہیں اور دوسرے کام نہ کریں اس لئے کہیں وہ مولویوں سے کفر کے فتوے لگواتا ہے، کہیں جماعت میں ہی اختلاف ڈلواتا ہے لیکن مومنوں یعنی رسولوں کی جماعت کا کام یہ ہوا کرتا ہے کہ اگر وہ ایک ہاتھ سے پیش آمدہ روک کو ہٹاتے ہیں تو دوسرے ہاتھ سے وہ کام کرتے ہیں جس کیلئے وہ کھڑے کئے ہے جاتے ہیں۔پس تم لوگ ایک طرف اس گھر کے فتنہ کو دور کرنے کی طرف توجہ کرو اور دوسری طرف ان لوگوں کو راہ راست پر لانے کی کوشش کرو جو گمراہی اور ضلالت میں پڑے ہوئے ہیں۔خدا تعالیٰ نہیں