خطبات محمود (جلد 4) — Page 282
خطبات محمود جلد ۴ ۲۸۲ (۶۰) چھوٹی بدی کا نتیجہ بڑی بدی پیدا کرتا ہے (فرموده ۵۔مارچ ۱۹۱۵ء) سال ۱۹۱۵ء تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت کی:۔كَلَّا إِنَّ كِتَبَ الْفُجَّارِ لَفِي سِجِينٍ وَمَا أَدْرَكَ مَاسِجين - كتب مَّرْقُومُ۔وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِلْمُكَذِّبِينَ الَّذِينَ يُكَذِبُونَ بِيَوْمِ الدِّينِ وَمَا يُكَذِّبُ بِهَ إِلَّا كُلُّ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ إِذَا تُتْلَى عَلَيْهِ ايْتُنَا قَالَ أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ كَلَّا بَلْ رَانَ عَلى قُلُوبِهِم مَّا كَانُوا يَكْسِبُونَ اس کے بعد فرمایا:۔ایک چھوٹی بدی کا نتیجہ بڑی بدی پیدا ہوا کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر ترقی کرنے اور کامیابی حاصل کرنے کی یہ قوت رکھ دی ہے کہ ہر ایک کام جو وہ کرتا ہے اسے اسی طرح آگے پیش آنے والے اور کام کیلئے وہ مضبوط کر دیتا ہے۔دیکھو ایک طالب علم الف پڑھتا ہے، تو پھر اس کے بعد با پڑھنی اس کیلئے آسان ہو جاتی ہے اور جب وہ الف با تا پڑھ لیتا ہے تو اس کیلئے قاعدہ پڑھنا آسان ہو جاتا ہے۔اور قاعدہ پڑھنے کے بعد قرآن مجید آسانی سے پڑھ سکتا ہے۔غرضیکہ ایک لفظ جو انسان سیکھتا ہے اور ایک ایک کام جو کرتا ہے وہ اسے اگلے الفاظ اور اگلے کاموں کیلئے تیار کر دیتا ہے۔اگر ایسا نہ ہوتا تو انسان بہت سی ترقیوں سے محروم رہ جا تا۔کبھی کوئی علم نہ سیکھ سکتا اور کبھی کوئی کام اعلیٰ درجہ پر نہ کر سکتا۔اگر پہلے دن ہی کوئی