خطبات محمود (جلد 4) — Page 280
خطبات محمود جلد ۴ ۲۸۰ سال ۱۹۱۵ء ہوتا ہے کہ چیزوں میں اختلاف پیدا کر لیا جاتا ہے اور کوئی ایک چیز کو اپنی ملکیت ظاہر کرتا ہے تو کوئی دوسری کو۔مثلاً اب جنگ ہو رہی ہے اور ممالک کو ویران کیا جا رہا ہے کیوں؟ اسی لئے کہ ایک دوسرے کو یہی کہتے ہیں فلاں ملک غیر کا ہے، اس لئے ہم اس کو تباہ کر دیں۔لَا إِلَهَ إِلَّا الله کا ماننے والا دنیا میں کسی قسم کا فساد نہیں ڈال سکتا۔اس کے دل میں جو شفقت علی خلق اللہ ہوتی ہے وہ کسی دوسرے کے دل میں نہیں ہو سکتی۔ہماری جماعت اس وقت اسی غرض کیلئے قائم کی گئی ہے AND AT ALTINTENANTANA اللہ کی تعلیم کو قائم کرے۔اس لئے اس کو چاہیئے اس بات پر غور کرے کہ اگر ایک طرف اللہ تعالیٰ سے تعلقات مضبوط ہوں تو دوسری طرف اس کی مخلوق سے بھی ہوں۔میں نے سنا ہے کہ بعض جگہ پلیگ کی بیماری پھیلنے کی وجہ سے لوگ اپنے رشتہ داروں کو بیمار چھوڑ کر بھاگ گئے اور ان کی دوائی وغیرہ نہ کی۔ایسا کرنا اسلام کی تعلیم کے خلاف ہے۔لا الهَ إِلَّا الله کے ماننے کے بعد انسان کے دل میں شفقت علی خلق اللہ کا ہونا نہایت ضروری ہے۔پر ہیز کرنا بھی ضروری ہے لیکن اس بات پر لوگوں نے غور نہیں کیا کہ انسان کو اسباب پر کہاں تک نظر رکھنی چاہیئے۔اور تو گل کے کیا معنے اور مطلب ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام کہتا ہے انسان اپنے آپ کو اس بیماری کی ہلاکت میں نہ ڈالے، اس کے یہ معنی ہیں کہ جہاں طاعون کی بیماری ہو وہاں نہ گھسے اور اگر وہاں جہاں وہ رہتا ہے بیماری شروع ہو جائے تو وہاں سے جانا بھی منع ہے۔اور یہ دونوں باتیں حکمت پر مبنی ہیں نہ پہلے حکم کے یہ معنے ہیں کہ انسان اپنے رشتہ داروں کو چھوڑ دے بلکہ توکل کرے اس حد تک تو تو گل ہے کہ رشتہ داروں دوستوں وغیرہ کو بیماری کی حالت میں چھوڑ کرانسان بھاگ نہ جائے بلکہ خدا پر توکل اور بھروسہ کر کے ان کی خدمت کرتا رہے اور اسباب پر نظر رکھنے کا یہ طریق ہے کہ انسان اسباب کا لحاظ رکھے کہ خود اپنے آپ کو مصیبت میں نہ ڈالے یعنی جہاں بیماری ہو وہاں نہ جائے کیونکہ جو خود مصیبت میں پڑتا ہے وہ فیل ہو جاتا ہے اسی لئے اسلام نے منع کیا ہے کہ اگر کسی جگہ وبا ہو تو مومن کا فرض ہے کہ وہاں جانے سے بچے لیکن اگر خدا کی منشاء نے چاہا ہے کہ اسے ابتلاء میں ڈالے یعنی اس کے محلہ میں بیماری شروع ہو جائے تو پھر توکل کرے اور یہ ایمان رکھے کہ وہ خدا جو ابتلاء بھی ڈال سکتا ہے وہ ابتلاء سے نکال بھی سکتا ہے۔جب اس کا کوئی رشتہ دار بیمار ہو تو اسے تو کل کر کے اس کی خدمت کرنی چاہیئے۔بہت نادان لوگ توکل کے غلط معنے سمجھ کر خواہ مخواہ