خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 15 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 15

خطبات محمود جلد ۴ ۱۵ سال ۱۹۱۴ء ہیں جو سخت احسان فراموش ہیں۔حالانکہ پیدائش سے پہلے پیدائش کے بعد جوانی بڑھاپے سے گذرتے ہوئے حشر و نشر تک ان احسانات کا سلسلہ چلا جاتا ہے۔ان احسانات پر غور کرتے ہوئے ہمارا فرض ہو جاتا ہے کہ ہم اس ذات بابرکات کی فرمانبرداری کریں جو ان احسانات کا سرچشمہ ہے۔مخلوقات میں سے تھوڑا سا بھی کوئی احسان کرتا ہے تو وہ احسان کر کے یہی چاہتا ہے کہ میرا فرمانبردار ہو۔حالانکہ مخلوق میں سے جو احسان کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا ہی پیدا کردہ ہے پھر جس چیز سے وہ احسان کرتا ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ ہی کی پیدا کی ہوئی ہے۔اور پھر وہ شفقت اور مہربانی جو باپ یا ماں اپنے بیٹے پر کرتے ہیں وہ بھی خدا ہی نے پیدا کی ہوئی ہے اس لئے اصل میں حمد کے لائق اور احسان ماننے کے قابل تو وہ ہستی ہے جو رب العلمین ہے جس کے احسانات ذرے ذرے پر ہویدا ہیں۔دنیا میں تو ہم دیکھتے ہیں کہ جو کسی پر ذرا بھی احسان کرے تو وہ اس کی نافرمانی برداشت نہیں کرتا۔مگر اللہ تعالیٰ کے احسانوں کا یہ حال ہے کہ چور چوری کرتا ہے تو اس کے دیئے ہوئے ہاتھوں سے، اس کی دی ہوئی آنکھوں سے ، اس کے دیئے ہوئے پاؤں سے ، اس کے بنائے ہوئے رستہ پر چل کر اور اتنا نہیں سوچتا کہ میں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کا غلط طور پر استعمال کر کے سکھ پا سکتا ہوں۔کیا جس نے دیکھنے کے لیئے آنکھیں دیں اس میں یہ طاقت نہیں کہ ان آنکھوں کو اندھا کر دے۔کیا جس نے ہاتھ دیئے اس میں یہ طاقت نہیں کہ ان ہاتھوں کو توڑ دے مگر وہ ایسا نہیں کرتا۔ان سب باتوں پر جب مجموعی طور سے غور کیا جائے تو بے اختیار زبان سے نکلتا ہے الْحَمدُ لِلهِ رَبّ العلمين ! لیکن باوجود نافرمانی کے پھر بھی احسان پر احسان دیکھ کر بعض شریر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ خدا کی تائید ہمارے ساتھ ہے اور جو کچھ ہم کرتے ہیں ٹھیک کرتے ہیں۔اگر جو ہم کرتے ہیں اس کے منشاء کے خلاف ہے تو وہ کیوں اپنے فعل سے ظاہر نہیں کر دیتا کہ میں کس کے ساتھ ہوں۔سو اس لئے فرمایا۔آلر محمن الرَّحِیمِ ت یعنی خدا کی صفت رحمانیت پر غور کرو۔وہ فرماتا ہے الرَّحْمَنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ سے یعنی میں رحمان ہوں اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ میں نے قرآن سکھایا۔اگر ہم ہر بات کو پسند کرتے اور چوری کو جائز ٹھہرانے والے ہوتے تو دنیا میں اپنی طرف سے قرآن کیوں بھیجتے۔پھر فرماتا ہے کہ میں رحیم بھی ہوں یعنی نیکی کا اعلیٰ سے اعلیٰ بدلہ دینے والا ہوں۔جب کوئی سچے دل سے نیکی بجالاتا ہے تو اس پر خاص رحمت نازل کرتا ہوں۔