خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 225 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 225

خطبات محمود جلد ۴ ۲۲۵ سال ۱۹۱۴ء کہتے ہیں کہ روحانی اندھا اس سے بہت زیادہ دکھ میں ہوتا ہے۔اور اس کی حالت اس کی نسبت بہت زیادہ قابل رحم ہوتی ہے۔ایک جسمانی اندھا آنکھوں کے نہ ہونے کی وجہ سے گڑھوں میں گرتا ہے۔تا ہم پھر بھی وہ لاٹھی سے کچھ نہ کچھ اونچ نیچ معلوم کر لیتا ہے۔مگر روحانی اندھوں کے لئے کوئی ایسی لاٹھی نہیں ہوتی کہ جس کے ذریعہ سے وہ اپنے آگے کے گڑھوں اور روکوں کو معلوم کر سکیں۔جسمانی اندھا تو دوسروں کی بات سن کر سنبھل جاتا ہے اور گڑھے میں گرنے یا کسی چیز سے سر ٹکر ا لینے سے بچ جاتا ہے۔مگر روحانی اندھے میں یہ عجیب بات ہوتی ہے کہ وہ بہرہ بھی ہوتا ہے اور جو روحانی بہرہ ہوتا ہے وہ اندھا بھی ضرور ہوتا ہے اور ساتھ ہی گونگا بھی ہوتا ہے اور جب کسی انسان کی روحانی آنکھوں پر پردہ پڑ جائے تو ساتھ ہی اس کی دوسری حسیں بھی ماری جاتی ہیں اس لئے روحانی اندھا بہت خطر ناک مصیبت اور دکھ میں ہوتا ہے۔لیکن باوجود اس حالت کے دیکھا جاتا ہے کہ دنیا میں روحانی اندھے اور بہرے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ایک نبی جب دنیا میں آکر آواز دیتا ہے تو بہت تھوڑے ہوتے ہیں جو اس کی آواز پر کان دھرتے ہیں۔پھر اس قلیل جماعت میں سے بھی بعض یسے لوگ ہوتے ہیں جو نبی کی آواز کوسن تو لیتے ہیں لیکن ان کی بینائی کی طاقت بہت کمزور ہوتی ہے۔اور پھر ایک وقت میں ماری ہی جاتی ہے۔ایسے لوگ روحانی اندھے ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں فرمایا ہے کہ کیا ان لوگوں کو کوئی ہدایت نہیں دی۔اس بات نے کہ ان سے پہلے کئی نسلوں اور قوموں کو ہم نے تباہ کر دیا ہوا ہے۔ان سے پہلے بڑی بڑی قومیں دنیا میں ایسی گزریں جو صدیوں تک حکومت کرتی رہی ہیں۔مگر اب ان کا نام ونشان بھی نہیں ملتا۔اس وقت سب سے پرانی دنیا کی تاریخ دس ہزار سال تک کی ملتی ہے۔اور بعض ممالک تو ایسے بھی ہیں کہ جن کے تین چار ہزار سال سے پہلے کے حالات معلوم نہیں ہو سکتے۔آجکل لوگ ان تباہ شدہ قوموں کے برباد شدہ مکانوں اور گھروں میں چلتے پھرتے ہیں مگر باوجود اس کے کہ یہ ان کیلئے عبرت اور نصیحت کے نشان ہیں ، ان کو دیکھتے ہوئے نہیں دیکھتے اور ان سے کچھ بھی نہیں سمجھتے۔تو بتاؤ کہ ان سے زیادہ اندھے اور کون ہوں گے۔جو شخص ایک انسان کی آواز نہیں سنتا، وہ بہرہ کہلاتا ہے۔مگر ان کی نسبت تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہزاروں سال کی وہ قومیں جو تباہ ہو چکی ہوئی ہیں چیخ چیخ کر سنا رہی ہیں مگر پھر بھی نہیں سنتے تو ان سے زیادہ بہرہ اور کون ہوگا۔پھر فرمایا۔یہ بہرے ہی نہیں بلکہ اندھے بھی ہیں۔کیا انہوں۔