خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 180 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 180

خطبات محمود جلد ۴ ۱۸۰ سال ۱۹۱۴ء حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا خلافت کے زمانہ میں کس قدر رعب اور جلال تھا کہ بڑے بڑے بادشاہ نام سن کر کانپ جاتے تھے۔ایک دفعہ ایک رومی بادشاہ نے سفیر کو آپ کی طرف بھیجا تو اس نے آکر کسی مسلمان سے پوچھا کہ بادشاہ کا کون سا حل ہے۔اس نے کہا کہ کونسا بادشاہ ہمارا تو کوئی بادشاہ نہیں۔سفیر نے کہا کہ عمر تو اس نے کہا کہ اوہ! خلیفہ ! اس کا محل کیا ہونا ہے۔مسجد میں جا کر دیکھو لیٹے ہوئے ہوں گے۔وہاں گیا تو پتہ لگا کہ باہر گئے ہوئے ہیں۔وہ بھی وہیں پہنچا اور دیکھا کہ زمین پر چادر بچھائے لیٹے ہوئے تھے اس نے اپنے خیال میں بڑا عظیم الشان نقشہ جمایا ہوا ہوگا کہ وہ عمر جس نے سارے یورپ اور ایشیاء کے ساتھ جنگ شروع کی ہوئی ہے وہ بڑے عالیشان محلوں میں رہتا ہوگا اس کا دربار بڑی شان وشوکت کے ساتھ لگتا ہوگا۔لیکن وہ زمین پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو لیٹا دیکھ کر ایسا مبہوت ہوا کہ بول ہی نہیں سکتا تھا۔آپ نے اس کو فرمایا کہ کہو کیا بات ہے ڈرو نہیں اور اپنا مطلب بیان کرو۔تو آپ کا اس قدر رعب تھا کہ لوگوں کی زبان بھی بند ہو جاتی تھی لیکن ایک خبیث انسان ۲ نے جو کہ نہ کوئی بڑا بہادر تھا اور نہ ہی دلیر۔نہ وہ عقلمند اور مدبر تھا اور نہ کوئی مشہور و معروف سردار، صبح کی نماز پڑھنے کے لئے نکلتے وقت آپ کو چھری سے مار دیا۔روم کا قیصر اور ایران کا کسریٰ جو کام نہ کر سکے وہ ایک نہایت پاچی سے اور خبیث انسان نے منافقت سے کر دیا۔لاکھوں فوجیں آپ پر چڑھ کر آئیں اور دشمنوں نے آپ کی جان لینے کے واسطے بڑا زور مارا لیکن کچھ نہ کر سکے۔اور وار چلایا تو ایک حقیر اور غیر معروف انسان نے جس کی کوئی طاقت اور حقیقت نہ تھی پر وہ صرف نفاق کی وجہ سے کامیاب ہو گیا۔تو بے شک حضرت عمر رضی اللہ عنہ بڑے بہادر اور دلیر تھے لیکن نفاق کا علاج ان کے پاس بھی نہ تھا۔وہ انسان جو میدان جنگ میں موت کی ذرا پرواہ نہیں کرتا اور بہادرانہ اپنی تلوار چلاتا ہے اس کو اگر کوئی دھوکا سے زہر دے دے تو اس کا وہ کیا مقابلہ کر سکتا ہے۔منافق کا حملہ بہت خطرناک ہوتا ہے۔وہ اندر ہی اندر اور خفیہ طور پر نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔یوں اگر بادشاہ کو اپنے دشمن کا علم ہو تو وہ اپنے ساتھ فوج رکھے گا۔اور ہر وقت چوکس رہے گا۔لیکن اگر وزیر ہی اس کی جان کا پیاسا ہو تو اس کا وہ کوئی علاج نہیں کر سکے گا کیونکہ اس کی دوستی نے اس کے نفاق پر پردہ ڈالا ہوا ہے۔یہی وجہ ہے کہ منافق کا حملہ بہت سخت ہوتا ہے۔قرآن شریف میں اسی وجہ سے منافق کو بہت برا کہا گیا ہے۔ایک طرف نفاق کے نقصان کی اہمیت کو دیکھ کر ایک رذیل سے رذیل انسان