خطبات محمود (جلد 4) — Page 164
خطبات محمود جلد ۴ ۱۶۴ سال ۱۹۱۴ء رف سے غیر مامون اور غیر محفوظ ہو جاتی ہیں۔اس سے بچانے کیلئے یہ تدبیر بتلائی کہ ایسے آدمی کو قتل کر دیا جاوے اس لئے قرآن کریم میں ایک جگہ وَلَكُمْ فِي القِصَاصِ حَیوناس فرمایا ہے۔تو پچھلے باقی ماندہ آدمیوں کی زندگیاں بچانے اور مقتول کا قصاص یعنی اس کی جان کا بدلہ لینے کیلئے بھی یہ مناسب ہے کہ اس کو قتل کر دیا جاوے۔تو فرمایا ہم نے تمہاری شرارت کو ظاہر کر کے مقتول کا بدلہ لیا۔یہ ہم نے لغد نہیں کیا بلکہ لوگوں کو زندہ کرنے اور ان کی جانیں بچانے کیلئے ہم نے ایسا کیا۔مجرم اپنے جرم کو چھپانے کی بڑی کوشش کرتا ہے۔چوروں کو دیکھو وہ اس لئے کہ ہمیں چوری کرتے وقت کوئی دیکھ نہ لے بڑی بڑی کوششیں کرتے ہیں اور اس لئے کہ کسی کو پتہ نہ لگ سکے وہ دن کے وقت چوری نہیں کرتے کیونکہ دن کے وقت آدمی دیکھ لیتے ہیں اس لئے انہوں نے رات کا وقت چوری کے لئے رکھا ہے۔پھر وہ اتنی احتیاط کرتے ہیں کہ دنوں کو دیکھ لیتے ہیں کہ کون سے ہیں۔مثلاً یہ کہ گھر کا مالک گھر میں نہ ہو اور یا پکڑنے والا مرد کوئی گھر پر نہ ہو۔پھر وہ راتیں مخصوص کر لیتے ہیں کہ کونسی ہوں پھر وہ ایسی آہستہ چلتے ہیں کہ ذراسی بھی آہٹ نہ ہو۔باوجود اتنی احتیاطوں کے پھر بھی گورنمنٹ کے قید خانوں کو جا کر دیکھ لو کہ بھرے پڑے ہیں۔ہزاروں چور پکڑے جاتے ہیں باوجود اس کے کہ وہ کتنی کوششیں اپنے جرم کو پوشیدہ رکھنے کی کرتے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم شریر کی شرارت اور مجرم کے مجرم کو آخر کا رظاہر کر ہی دیتے ہیں۔سب سے بڑی تسلی جو مجرم اپنے دل میں رکھتا ہے اور جو اس کو اس جرم پر دلیر کرتی ہے وہ یہ ہے کہ میں نے بڑی احتیاط کر لی ہے میرا جرم ظاہر نہیں ہوگا اور نہ میری لوگوں میں ذلت ہوگی اور میرے فعل کا کسی کو علم نہیں ہوگا۔چور چوریاں کرتے ہیں پھر وہ اپنی طرف سے اس کے نشان اس طرح مٹاتے ہیں کہ کسی کو بالکل علم نہ ہو سکے۔مویشی چرا لئے اور دریا میں سے آٹھ آٹھ دس دس میل گزر گئے تا کہ کسی کو نشان نہ مل سکے مگر اللہ تعالیٰ نے بھی ایسے علوم پیدا کر دیئے ہیں کہ ان کے ذریعہ خواہ چور ہیں ہیں میں پانی کے اندر سے گزر جائے تا ہم اس کا پتہ لگ جاتا ہے۔یہ ہم کو نصیحت کی ہے۔مجرم کو جرم پر دلیر کرنے کیلئے یہ کافی ہے کہ اسے امید ہوتی ہے کہ میرا پتہ نہیں لگ سکے گا اور یہی امید اس کو جرم پر دلیر کرتی ہے۔فرمایا خوب یا درکھو کہ کوئی مجرم بھی پوشیدہ نہیں رہ سکتا۔چور رات کے وقت چوری کو جاتا ہے۔کیوں؟ دن کو