خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 127 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 127

خطبات محمود جلد ۴ ۱۲۷ (۳۰) خوف وخون سے نجات سچائی کی علامت ہے (فرموده ۱۰۔جولائی ۱۹۱۴ ء ) سال ۱۹۱۴ء تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت کی :۔إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِيْنَ هَادُوا وَالنَّصْرَى وَالصَّابِئِينَ مَنْ آمَنَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ اس کے بعد فرمایا:۔کوئی دنیا کا انسان اپنے پیاروں اور عزیزوں کو مصیبت اور تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا۔اگر دو آدمیوں میں خفیف سے خفیف بھی محبت یا تعلق ہو تو ایک کی تکلیف کا اثر دوسرے پر ضرور پڑے گا۔باپ اپنے بیٹے کو مصیبت میں دیکھ کر کبھی یہ برداشت نہیں کرتا کہ خود آرام سے بیٹھا ر ہے۔اور اسی طرح بیٹا باپ کو تکلیف میں دیکھنا گوارا نہیں کرتا۔بھائی بھائی کی تکلیف کو ، دوست دوست کی تکلیف کو، بیوی خاوند کی تکلیف کو اور خاوند بیوی کی تکلیف کو دیکھ کر آرام سے نہیں بیٹھ سکتا۔غرضیکہ جن انسانوں کا آپس میں ذرا بھی تعلق ہوتا ہے ان کو ایک دوسرے کی تکلیف دیکھ کر ضرور درد پیدا ہو جاتا ہے۔بہت سے واقعات ایسے ہوئے ہیں کہ گھر میں آگ لگ گئی ہے اور بچہ اندر ہے تو باپ یا ماں نے آگ میں کود کر یا تو بچے کو بچالی یا خود بھی اس کے ساتھ جل کر کباب ہوگئی ہے۔تو محبت کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ جس کے ساتھ محبت اور پیار ہوتا ہے اس کی ہر ایک تکلیف