خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 102 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 102

خطبات محمود جلد ۴ ۱۰۲ (۲۴) سال ۱۹۱۴ء حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم پر ایک احسان کا ذکر (فرموده ۲۹ مئی ۱۹۱۴ء) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت کی :۔وَإِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ فَأَنجَيْنَكُمْ وَأَغْرَقْنَا الَ فِرْعَوْنَ وَأَنْتُمْ تَنْظُرُونَ وَاذْوعَدُنَا مُوسَى أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْ بَعْدِةٍ وَانْتُمْ ظَالِمُونَ ثُمَّ عَفَوْنَا عَنْكُمْ مِنْ بَعْدِ ذلِكَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ وإِذَاتَيْنَا مُوسَى الْكِتَب وَالْفُرْقَانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ۔وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يُقَوْمِ إِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ أَنفُسَكُم بِاتِّخَاذِكُمُ الْعِجْلَ فَتُوبُوا إلَى بَارِيكُمْ فَاقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ عِنْدَ بَارِيكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ پھر فرمایا:۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ ایک اور احسان بیان فرماتا ہے جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ ان رکوعوں میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو بار بار اپنے احسانات گنائے ہیں اور بار بار احسان گنانے کی وجہ یہ ہے کہ ان کو بتایا ہے کہ دیکھو بنی الحق سے جو وعدے ہم نے کئے تھے وہ پورے ہو گئے ہیں اور ان سے ہم نے وعدہ خلافی نہیں کی۔جب ان سے وعدہ خلافی نہیں کی گئی تو پھر کیا وجہ ہے کہ تم سے وعدہ خلافی کی جاوے گی۔جو انعامات بنی اسرائیل پر خدا تعالیٰ نے کئے تھے ان میں سے ایک اور انعام بیان فرماتا ہے کہ۔وَاذْفَرَقْنَا بِكُمُ البَحْرَ فَأَنجَيْنَكُمْ وَاغْرَقْنَا الَ فِرْعَوْنَ وَأَنْتُمْ تَنْظُرُونَ