خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 92

خطبات محمود جلد ۴ ۹۲ سال ۱۹۱۴ء أَقِيمُو الصَّلوةَ میں شامل ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ اركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِيْنَ الگ فرماتا ہے۔بعضوں کا خیال ہے کہ یہود اس کے مخاطب ہیں لیکن میرے نزدیک اس میں ایک حکمت ہے اور وہ یہ ہے کہ رکوع کے معنے جھکنے میلان کرنے اور مائل ہو جانے کے ہیں۔یہاں اللہ تعالیٰ نے جو لطیف بات بیان فرمائی ہے وہ یہ ہے کہ شریعت کے معین شدہ احکام تو فرائض میں داخل ہیں اس لئے وہ تو اسی طرح بجالائے جاتے ہیں۔جس طرح کہ ان کا حکم ہے مثلاً ظہر کی نماز کی چار رکعتیں ہیں۔ہندوستان ، شام ، چین، مصر، عرب اور افریقہ غرضیکہ ہر ایک جگہ کے مسلمان چار ہی رکعتیں پڑھیں گے کیونکہ اس کی شریعت نے حد بندی کر دی ہے۔اسی طرح جن احکام کو شریعت نے فرائض ٹھہرا دیا ہے ان کو ہر ایک مسلمان خواہ وہ کسی ملک میں رہنے والا ہو یا کوئی زبان بولنے والا ہو یکساں طور پر ادا کرے گا۔ایسے سب احکام جو عبادت کیلئے ہیں آقِیمُو الصلوۃ وأتُوا الزَّکوۃ میں آ جاتے ہیں۔کیونکہ ہر ایک عبادت جسمانی ہوگی یا مالی، اس لئے عبادت کے سب فرائض ان دو حکموں کے اندر ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کو تو اسی طرح پورا کرو جس طرح تم کو حکم دیا گیا ہے اور باقی نیکیاں جن میں تم کو اختیار دیا گیا ہے ان کے کرنے کا طریق یہ ہے کہ اِرْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِين جماعت سے مل کر کرو اور علیحدہ علیحدہ ہمارے حضور میں نہ آؤ۔حدیث سے ثابت ہے کہ رسول کریم ملا سین نے فرمایا کہ جو شخص جماعت میں سے ایک بالشت بھی دور ہو جاتا ہے وہ ہم سے نہیں ہے ۲۔اب لوگ کہتے ہیں کہ جبکہ ہمارے پاس سچی تعلیم موجود ہے تو پھر جماعت کی کیا ضرورت ہے لیکن خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر نیک بات بھی کرنی ہو تو بھی جماعت کے ساتھ مل کر کرو۔صحابہ کرام نے اپنے عمل سے اس کی تشریح کر دی ہے۔حضرت ابن عمر بہت محتاط آدمی تھے جب بہت بغاوت ہوئی تو انہوں نے حضرت عثمان سے پوچھا کہ لوگ تو مارتے ہیں۔اب میرے لئے کیا حکم ہے حضرت عثمان نے جواب دیا کہ جماعت کو لو اور جماعت کے ساتھ رہو۔انہوں نے کہا کہ اگر جماعت آپ کے خلاف ہو تب میں کیا ہے کروں۔فرمایا۔پھر بھی جماعت کے ساتھ رہو۔انہوں نے پھر کہا کہ لوگ آپ کو قتل کر دیں گے تو پھر۔آپ نے فرمایا کہ پھر بھی جو جماعت ہو اس کے ساتھ مل جاؤ علیحدگی ہرگز اختیار نہ کرو۔اتأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَأَنْتُمْ تَتْلُونَ الْكِتب أفَلا تَعْقِلُونَ۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے یہود ! تم لوگوں کو تو بھلائی کا حکم کرتے ہو اور ان کو پڑھ پڑھ کر