خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 91 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 91

خطبات محمود جلد ۴ ۹۱ سال ۱۹۱۴ء لیکن شیطان اپنی کارروائی کرتا رہتا ہے۔اور حق کو باطل میں ملا کر لوگوں کے سامنے رکھ دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم ایسا مت کیا کرو یعنی حق اور باطل کو مت ملاؤ۔حق کو حق ہی کہو اور باطل کو باطل۔کیونکہ اس طرح لوگ دھو کے میں آجاتے ہیں پھر حق کو چھپاؤ بھی نہ۔اگر چھپاؤ گے تو لوگوں کو فائدہ کس طرح ہوگا۔مجھے تعجب ہے کہ اگر کوئی دولتمند ہو تو اچھا لباس پہن کر یا امیرا نہ ٹھاٹھ سے وہ اپنی دولت کو ظاہر کرتا ہے اور اگر کوئی عالم ہو تو علیت کا اظہار کرتا ہے۔اس طرح جو بھی کسی کے پاس اچھی چیز ہو اس کو لوگوں کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ایک مثل مشہور ہے کہ کسی عورت نے ایک انگوٹھی بنوائی تھی اور اس کو لوگوں کو دکھانے کیلئے اس نے اپنے گھر کو آگ لگا دی۔جب عورتیں اس کے پاس افسوس کے لئے آئیں تو کہنے لگی سب کچھ جل گیا ہے اور کچھ باقی نہیں بچا لیکن یہ انگوٹھی رہ گئی ہے۔ایک عورت نے اس کو کہا کہ تو نے یہ انگوٹھی کب بنوائی ہے۔تو اس نے کہا اگر یہی بات تو پہلے پوچھتی تو میرا گھر کیوں جلتا۔اگر چہ یہ بات تو ایک لطیفہ ہے مگر اس میں شک نہیں کہ ذرا کسی کے پاس علم ہو، دولت ہو، وجاہت ہو وہ اس کو پھیلانے کی بڑی کوشش کرتا ہے لیکن لوگوں کے پاس دین کی بڑی بڑی خوبیاں ہوتی ہیں ان کے اظہار کی طرف توجہ نہیں کرتے۔اگر کسی مسلمان کے پاس ایک ایسا ہیرا ہو جو کسی کے پاس نہ ہو تو وہ ضرور فخر کے طور پر لوگوں کو دکھاتا پھرے گا کہ میرے پاس اس قدر قیمتی ہیرا ہے جو کہ کسی اور کے پاس نہیں لیکن وہ خدا کے دیئے ہوئے قیمتی ہیرے لوگوں کو نہیں دکھاتا۔قرآن شریف کے سوا یہ قیمتی ہیرے کہاں محفوظ ہیں اور اسلام کے بغیر کہاں ہیں ؟ مگر چونکہ مسلمان ان کو پیش نہیں کرتے اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو یقین نہیں ہے کہ یہ ہیرے ہیں کیونکہ اگر یہ ان کو ہیرے سمجھیں تو کیوں نہ کسی کے آگے پیش کریں۔اب مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ اسلام کو چھپاتے پھرتے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم جان بوجھ کر حق کو مت چھپاؤ۔وَاقِيمُوا الصَّلوةَ وَاتُو الزَّكُوةَ وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِيْنَ پھر فرماتا ہے کہ نماز کو قائم کرو اور زکوۃ دو۔اور وہ لوگ جو اللہ کے فرمانبردار ہیں۔ان کے ساتھ مل کر کام کرو۔اس آیت کی میں اللہ تعالیٰ نے تین حکم بیان فرمائے ہیں۔(۱) نماز قائم کرو (۲) زکوۃ دو ( ۳) رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔اس تیسرے حکم پر یہ اعتراض پڑتا ہے کہ آقِیمُوا الصَّلوة میں رکوع بھی شامل ہے کیونکہ جو آدمی نماز پڑھے گا وہ رکوع بھی ضرور کرے گا تو جب رکوع