خطبات محمود (جلد 4) — Page 77
خطبات محمود جلد ۴ کرے وہ مان سکتا ہے اور ہدایت بھی پاسکتا ہے۔ ابلیس میں یہ قص تھے۔ سال ۱۹۱۴ء (۱) اول اباء کیا۔ (۲) تکبر کیا کہ ہم مان نہیں سکتے ۔ ہم بڑے آدمی ہیں ہم نے بڑی بڑی خدمتیں کی ہوئی ہیں۔ اور اس نے ابھی کچھ نہیں کیا۔ البتہ اس نے فتنہ ڈلوا دیا ہے آج صبح کی نماز میں سورۃ سجدہ پڑھتے ہوئے خدا نے انمَا يُؤْمِنُ بِايْتِنَا الَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا بِهَا خَرُوا سُجَّدًا وَسَبَّحُوا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ ۲ کے یہ معنی میرے دل میں ڈالے کہ مومن وہی ہوتا ہے جو کہ دین کی خدمت تو کرے لیکن اپنی خدمات پر اظہار تکبر نہ کرے۔ ایما کے معنی ہیں سوائے اس کے نہیں ۔ یعنی سوائے ان لوگوں کے کوئی مسلمان نہیں جن کو آیتیں سنائی جاتی ہیں تو فرمانبرداری کرتے ہیں اور خدا کو پاک ثابت کرتے ہیں ۔ اور پھر یہ نہیں کہتے کہ ہم نے بڑی فرمانبرداری کی اور بڑی بڑی خدمتیں کی ہیں۔ مومنوں کی یہ نشانیاں ہوتی ہیں (۱) خود فرمانبردار ہوتے ہیں (۲) لوگوں میں خدا کے کو پاک ثابت کرتے ہیں (۳) اپنی خدمات کا اظہار اور ان پر تکبر اور تفاخر نہیں کرتے ۔ شیطان نے انکار کیا کہ میں نے یہ یہ خدمتیں کی ہیں اور میں بڑا ہوں ۔ آدم نے کیا کیا ہے جو اس کو خلیفہ بنایا جاتا ہے۔ لیکن کیا اس کو معلوم نہ تھا کہ آدم خدمت کے لئے ہی تو بنایا گیا ہے اور اس کے خدمت کرنے کا وقت اب آیا ہے اگر اس نے اس سے پہلے خدمت کی ہوتی تو پہلے کیوں خلیفہ نہ بنتا۔ خلیفہ خدم خلیفہ خدمت کرنے کے لئے ہی مقرر کیا جاتا ہے ۔ وہ انسان جو خلیفہ کا انکار کرتا ہے اس کے اندر پہلے ہی خرابی ہوتی ہے اور ضرور کوئی نہ کوئی گند اس میں ہوتا ہے اسی لئے انکار کرتا ہے۔ ورنہ ممکن نہیں کہ وہ تو خدا کا سا فرمانبردار اور پکا مومن ہو لیکن خدا اس کا انجام برا کر دے۔ یہ اس کا اپنا ہی قصور ہوتا ہے دشمنی ، بغض، جہالت اور ناپا کی اس کے اندر کسی نہ کسی گوشے میں ضرور ہوتی ہے جو اس کو حق سے باز رکھتی ہے چاہے کوئی مانے یا نہ مانے اور کسی کو برا ہی لگے لیکن میں تو صاف کہوں گا کہ اس زمانہ میں جنہوں نے مخالفت کی ہے وہ وہی ہیں جنہوں نے حضرت خلیفتہ المسح اول پر اعتراض کئے اور وہ وہی ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود کو خط لکھے کہ تم روپیہ کھا جاتے ہو کیا وہ اپنے خطوط سے انکار کر سکتے ہیں۔ جنہوں نے لکھا تھا کہ ہمیں تو قربانیاں کرنے کے لئے کہا جاتا ہے لیکن خود زیور بنواتے ہیں۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ صحابہ بھوکے رہتے تھے اور خود اچھے اچھے کھانے کھاتے ہیں اور عالیشان مکانوں میں رہتے ہیں ۔