خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 69 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 69

خطبات محمود جلد ۴ ۶۹ سال ۱۹۱۴ء سماء وہ جو ہمارے اوپر ہے۔ ایک وہ جو خواب میں دکھائی دیتا ہے۔ ایک ملاء اعلیٰ کا۔ ایک حشر کا ۔ ایک قبر کا۔ پھر دوزخ اور جنت کا یہ الگ الگ سماء ہیں ۔ پھر سات آسمان سات بلندیاں ۔ ہر روحانی ترقی کے بھی سات درجے ہیں اور جسمانی ترقی کے بھی سات درجے ہیں ۔ سورہ مومنون میں اس کا ذکر ہے۔ براہین احمدیہ حصہ پنجم میں حضرت مسیح موعود نے اس کو خوب کھول کر لکھا ہے اور ایسی تفسیر کی ہے کہ اُسے پڑھ کر انسان کا ایمان تازہ ہو جاتا ہے۔ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ۔ اسے ہر ایک چیز کا علم ہے۔ وہ عالم ہے یہ جو کچھ اس نے بنایا ہے عبث نہیں بنایا۔ وہ تو عالم ہے اور علماء تو لغو اور عبث کاموں سے پر ہیز کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ علیم و خبیر ہو کر ایسے کام کرے گا۔ اگلے رکوع میں مثالیں دے کر سمجھایا ہے۔ ایک صحابی تھا وہ لڑائی میں بڑے زور سے جنگ کر رہا تھا اور دشمن کا بڑی دلیری سے مقابلہ کر رہا تھا۔ اس کی نسبت نبی کریم صلی السلام نے فرمایا کہ یہ جہنمی ہے تو بعض صحابہ کو بہت برا معلوم ہوا کہ ایک بیچارہ اتنی سختی سے دشمن کا مقابلہ کر رہا ہے مگر آپ اسے جہنمی کہہ رہے ہیں۔ پھر بعض نے آپ کو عرض کیا تو آپ نے فرمایا نہیں یہ ضرور جہنمی ۔ ہے۔ تو اس خیال سے کہ کسی کے ایمان میں خلل نہ آجاوے ایک صحابی اس کے ساتھ لگ گیا۔ اور جدھر وہ جاتا وہ بھی اس کے ساتھ ہی ہوتا۔ آخر کار اسے ایک زخم لگا جس کے درد کو وہ برداشت نہ کر سکا۔ تو اس نے تلوار کو زمین پر ٹیک کر اور اس کے اوپر اپنا پیٹ رکھ کر دبایا اور خودکشی کر لی ۵ تب وہ صحابی واپس آیا اور اس نے نبی کریم صلی الیتیم کے حضور آ کر عرض کیا اور بتلایا کہ اس نے اس طرح خود کشی کر لی ہے۔ ایسا ہی بعض لوگ بظاہر تو نیک معلوم ہوتے ہیں لیکن دراصل وہ شقی ہوتے ہیں اور ان کا انجام برا ہوتا ہے۔ اور بعض لوگ بظاہر بڑے معلوم ہوتے ہیں لیکن وہ آخر کار نیک ہوتے ہیں۔ اس لئے انسان کو چاہئیے کہ ہمیشہ دعاؤں میں لگا ر ہے اور کبھی سستی سے کام نہ لے۔ جس کو خدا تعالیٰ صداقت دیتا ہے وہ گمراہ نہیں ہوتا۔ بعض بڑے بڑے گندوں میں رہتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ ان کو بچا لیتا ہے۔ اور بعض بڑی بڑی عمدہ صحبتوں میں رہ کر بھی تباہ ہو جاتے ہیں۔ اس لئے انسان کو اللہ تعالیٰ کے حضور گرے رہنا چاہیئے ۔ ہمارا مرنا اور جینا اللہ کیلئے ہو اور ہمارا سب کچھ اسی کیلئے ہو۔ الفضل ۱۵۔ اپریل ۱۹۱۴ء)