خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 62 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 62

خطبات محمود جلد ۴ ۶۲ سال ۱۹۱۴ء بھری ہوئی ہے ایک وقت تھا کہ چھوٹی مسجد کا صرف ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جس میں بمشکل چودہ آدمی آن سکتے تھے وہ بھی پوری نہیں ہوتی تھی۔پھر آدمی بڑھتے گئے یہاں تک کہ اس کو ٹھری میں بھی آنے لگ گئے جو الگ تھی۔پہلے اس میں کوئی آدمی نماز نہ پڑھا کرتا تھا پھر اس کے بعد میں نے دیکھا کہ لوگ اوپر چھت پر بھی جانے لگے۔اور پھر تو وہ بھی پوری نہ ہونے کے باعث مسجد کو وسیع کرنا پڑا۔پہلے اس مسجد ( جامع مسجد ) میں کوئی آدمی نہیں آیا کرتا تھا لیکن اب یہاں بھی نماز پڑھنے والے ہوتے ہیں۔اور چھوٹی مسجد بھی پر ہوتی ہے۔اور اب پھر لاکھوں کی تعداد میں آدمی ہو گئے اور لاکھوں روپے چندہ آنے لگا۔كُلَّمَا رُزِقُوا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِزْقًا۔ان کو ان جنتوں میں سے پھل بھی ملیں گے جو ایک دوسرے کے ساتھ ملتے جلتے ہوں گے۔مُتَشَا بھا کے کئی معنی ہیں ( اول ) یہ کہ اس دنیا کے پھلوں سے وہ ملتے جلتے ہوں گے ( دوم ) ایک شکل کے سب میوے ہوں گے صرف ان کا مزا الگ الگ ہوگا ( سوم ) روحانی لوگ کہتے ہیں کہ جو لوگ اس جہان میں عبادت کرتے ہیں ان کو ان کی عبادتوں کا پھل ملے گا ان کی عبادتیں ان کو پھلوں کے رنگ میں پیش کی جائیں گی اور وہ یہ کہیں گے کہ یہ وہی ہے جو ہمیں مل چکا (چہارم) اور اگر اس دنیا کے لحاظ سے لیا جاوے تو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس دنیا میں کامیابیوں کی جنت اس سے مراد لی جائے۔یعنی جنگیں ہوں گی اور ان میں کفار مارے جاویں گے ان ملکوں سے جو ثمرہ ان کو ملے گا تو وہ کہیں گے کہ یہ ہے جس کا ہمیں پہلے سے وعدہ دیا جاے چکا ہے۔پھر یہ بھی کہ فتوحات ہوں گی اور پے درپے ہوں گی صرف ایک فتح پر ہی بس نہ ہو جاوے گی ایک سے ایک بڑھ چڑھ کر اور عمدہ ہوگی۔پھر فرمایا۔وَلَهُمْ فِيهَا أَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ مُسلمانوں کی بیویاں مطہر اور پاکیزہ ہوں گی۔یہ ایک ایسا وعدہ ہے کہ سوائے مسلمانوں کے اور کسی سے نہیں ہوا۔فتوحات کے وعدے تو انجیل میں اور تورات میں بھی ہوئے جو پورے بھی ہو گئے۔لیکن یہ ایک ایسا وعدہ ہے جو سوائے مسلمانوں کے اور کسی سے نہیں کیا گیا۔جنگوں میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بہت مدت تک مرد باہر رہتے ہیں وہ گھروں میں نہیں آسکتے اور فاتحین میں ہی ایسا ہوا کرتا ہے۔ادھر مرد جن ملکوں کو فتح کرتے جاتے ہیں اس ملک کی عورتوں کے خاوند جنگ میں ہی مر چکے ہوتے ہیں ان کا کوئی والی وارث ہے اور ان کی کوئی جائے پناہ تو ہوتی نہیں اس لئے پھر ان پر فاتحین سپاہی قابو پالیتے ہیں اور ان میں اس طرح پر زنا پھیل جاتا ہے ادھر ان کی بیویوں کو خوب آزادی ہوتی ہے اور ان کو کھلا روپیہ خرچ کرنے