خطبات محمود (جلد 4) — Page 61
خطبات محمود جلد ۴ पा سال ۱۹۱۴ء کے ساتھ ہلاک ہو جاویں گے۔بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ جنگوں میں طرفین کو بہت سخت نقصان ی کو بہت سخت نقصا پہنچتا ہے اور فاتحین کو ان کی فتح کوئی فائدہ مند نہیں ہوا کرتی۔اب یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر ان مومنوں کا کیا حال ہو گا جو اللہ کو بھی مانتے ہیں اس کے رسول کو بھی مانتے ہیں۔آیا یہ بچ جاویں گے یا یہ بھی مارے جاویں گے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مومنوں کو جو ایمان لائے ہیں اور عمل نیک کرتے ہیں بشارت دے دو کہ ان کیلئے خدا کے پاس جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں چلتی ہیں۔ایک جنت تو آخرت میں ملے گی اور دنیا میں بھی مومنوں کو جنتیں ملتی ہیں۔میرے نزدیک سب سے بڑی جنت دل کی تشفی ہوتی ہے۔دل کی تسلی اور اطمینان ہی بڑی جنت ہیں۔کتنی ہی کوئی مصیبت اور دکھ کیوں نہ ہو لیکن جو اس جنت میں ہو گا اسے قطعا کوئی دکھ دکھ اور کوئی مصیبت مصیبت نہیں معلوم ہوگی۔میں نے دیکھا ہے کہ مبارک احمد میرا چھوٹا بھائی جن دنوں میں بیمار تھا تو حضرت صاحب اس کے علاج میں ہر وقت مصروف رہتے تھے آپ کو اس کی ایسی فکر تھی اور آپ اس کے علاج میں ایسے محو تھے کہ گویا اور آپ کو کوئی فکر ہی نہیں۔اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا آپ کو اس کے سوا اور کسی سے تعلق ہی نہیں۔آپ اس کے علاج کیلئے رات کو بھی بہت ہی کم گو یا شاذ و نادر ہی سوتے تھے۔بلکہ میں تو حیران ہوتا تھا کہ آپ سوتے کس وقت ہیں۔آخری وقت میں جبکہ حضرت خلیفہ المسیح نے اس کی نبض دیکھی تو معلوم ہوا کہ مبارک احمد کی جان نکل چکی ہے۔آپ نے حضرت صاحب کو عرض کیا کہ حضور نبض ہے نہیں۔نبض ہے نہیں۔آپ نے جب یہ سنا تو فرمایا انا للهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔پس ادھر مبارک احمد کی جان نکلی اور ادھر حضرت صاحب نے دوستوں کو خط لکھنے شروع کئے کہ کوئی گھبرانے کی بات نہیں گھبراؤ نہیں۔یہ ایک خدا تعالیٰ کی امانت تھی جو اس نے اب لے لی ہے۔وہی مبارک احمد جس کے علاج کے لئے آپ رات کو بھی آرام نہ کرتے تھے جب فوت ہو گیا تو آپ نے فرمایا یہ خدا کی امانت تھی جب تک یہ ہمارے پاس رہی ہم پر فرض تھا کہ اس کے علاج میں کو تاہی نہ کرتے ورنہ یہ اس کی امانت کی پوری ادا ئیگی نہ ہے تھی۔پس جب تک ہمارا کام تھا ہم نے کیا۔اب جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہم سے اپنی امانت واپس لے لی تو ہمیں گھبرانا نہیں چاہیئے۔یہ ہے اطمینان قلب جس سے بڑھ کر اور کوئی جنت نہیں۔اس جنت کا مقابلہ دنیوی جنات میں سے اور کوئی نہیں کر سکتا۔حضرت صاحب اکیلے تھے۔اب تم دیکھ رہے ہو کہ یہ مسجد آدمیوں سے ہے