خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 544 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 544

خطبات محمود جلد ۴ ۵۴۴ سال ۱۹۱۵ دعوی کے بعد وہ کس قدر کماتا اور روپے جمع کرتا ہے اور کس قدر سے کامیابی ہوتی ہے۔اس نے تو آج سے پہلے جو کچھ دیکھا ہے وہی اس کے سبق کیلئے کافی تھا کیونکہ ایک وہ وقت تھا جبکہ یہ لوگ جماعت میں نے بڑے معز ز سمجھے جاتے تھے، لوگ ان کیلئے جانیں قربان کرنے کیلئے تیار تھے۔لیکن جب انہوں نے گھمنڈ کیا اور کہا کہ ہم نے یہ خدمتیں کی ہیں، ہمارا سلسلہ پر یہ احسان ہے تو خدا تعالیٰ نے ان کو نکال کر باہر کر دیا اور کہا کہ احسان تو ہمارا تم پر تھا لیکن تم نے گھمنڈ کیا اور الٹا ہم پر احسان جتلا یا اس لئے جاؤ دور ہو جاؤ۔اس خود سری اور گھمنڈ کی وجہ سے وہ جماعت سے نکلے تھے لیکن وہ پھر بھی نہیں سمجھتے۔نادان انسان کہتا ہے کہ میں ہی سب کچھ کرتا ہوں حالانکہ وہ کچھ بھی نہیں کرتا۔اور انسان کر ہی کیا سکتا ہے۔اس میں کچھ شک نہیں کہ تمام کامیابیاں اور نفرتیں خدا تعالیٰ کے فضل سے ہی ہوتی ہیں۔آنحضرت سینی یا یہ تم سے بھی جب پوچھا گیا کہ آپ کی نجات اعمال سے ہوگی۔تو آپ نے فرمایا نہیں خدا کے فضل سے ہوگی ھے۔پس جب آنحضرت مصلای یتیم کی نجات فضل سے ہوگی تو اور کون ہے جو اپنے اعمال پر بھروسہ رکھ سکے۔اگر کوئی اعمال کرتا ہے تو وہ بھی خدا کے فضل اور توفیق سے کرتا ہے۔پس تم اس بات کو خوب یا درکھو کہ اس سالانہ جلسہ کے نظارہ کو دیکھ کر گھمنڈ میں نہ آجانا کہ یہ ہماری کوششوں کا نتیجہ ہے۔یہ کسی کی کوشش کا نتیجہ نہیں نہ میری کا نہ تمہاری کا۔پس کوئی گھمنڈ نہ کرنا بلکہ یہی کہنا کہ الحمدُ للهِ رَبّ العلمين تمام تعریفیں اور بڑائیاں خدا ہی کیلئے ہیں کہ جس نے ہمیں توفیق دی اور اتنا بڑا افضل کیا۔باوجود یہ کہ ہم کمزور تھے مگر اس نے ہماری مدد کی۔کیونکہ وہ الر حمن ہے۔اپنے فضل سے آپ ہی سامان دیتا ہے اور جب انسان ان کو استعمال کرتا ہے اور اس کے آگے سر جھکاتا ہے تو چونکہ و رحیم ہے اس لئے اس کی رحیمیت جوش میں آتی ہے اور کہتی ہے کہ آؤ میں تمہیں بدلہ دوں۔پس کام کا بدلہ مل جاتا ہے تو چونکہ ہر ایک کوشش اور محنت کا نتیجہ مرتب کرنا خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے اس لئے کسی انسان کو اپنی کوشش پر ذرا بھی تکبر نہ کرنا چاہیئے۔پھر یہ کہنا چاہیے إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ :۔ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں۔انسانوں کے جمع ہونے کے دنیا میں بڑے بڑے نظارے دیکھنے میں آتے ہیں لیکن ان نظاروں اور ہمارے جلسہ کے نظارے میں ایک بہت بڑا فرق ہے اور وہ یہ کہ وہ بندوں