خطبات محمود (جلد 4) — Page 532
خطبات محمود جلد ۴ ۵۳۲ سال ۱۹۱۵ پر یاور امیٹا نہیں منواتا۔اس لئے اصل میں شرح صدر اسی کا ہوتا ہے تو خدا تعالیٰ نے فرمایا۔اے انسان! کیا ہم نے تجھے ایسی جگہ پر کھڑا نہیں کر دیا کہ تو ضد اور ہٹ کی وجہ سے یا بہ تقلید آبائی مسلمان بنا رہے بلکہ ہم نے تجھے ایسے دلائل اور براہین دیئے ہیں اور ایسی مضبوط جگہ پر کھڑا کیا ہے کہ تجھے بھی وہم بھی نہیں آ سکتا کہ اسلام جھوٹا ہے یا اس کی کوئی بات غلط ہے۔اب بتاؤ کہ کیا یہ ایک بہت بڑا انعام نہیں؟ کہ انسان کو خدا تعالیٰ ایسے مذہب کا پیرو بنائے جس کی نسبت کبھی و ہم بھی نہ آسکتا ہو کہ جھوٹا ہے اور پھر اس مذہب پر چل کر انسان خدا تعالی کو اسی دنیا میں دیکھ لے اس سے بڑھ کر اور کیا انعام ہوسکتا ہے۔دوسرے مذاہب والے گو ماں باپ کی وجہ سے یا قومی لحاظ سے اپنے اپنے مذاہب پر شرح صدر رکھیں۔لیکن جب بھی عقل کی روشنی ان کو پہنچے گی اور وہ اپنے مذہب کے اصولوں پر غور کریں گے تو سمجھ لیں گے کہ ہمارے پاس کوئی دلائل اور براہین نہیں ہیں۔ا یک دفعہ ایک پادری سے میری گفتگو ہوئی۔پہلے روز مسئلہ وحدانیت پر بات چیت ہوئی تو کہنے لگا کہ یہ ایک بار یک مسئلہ ہے ایشیائی دماغ اس کو نہیں سمجھ سکتے۔میں نے کہا۔مسیح بھی تو ایشیائی ہی تھے کیا ان کو بھی اس کی سمجھ آئی تھی یا نہیں۔اس پر خاموش ہو گیا اور کہنے لگا۔اچھا گفتگو کریں گے۔دوسرے دن پھر میں اس کے پاس گیا وہ مجھے جانتا نہ تھا۔اس دن کے مسئلہ کفارہ پر بحث ہوئی۔آخر کار بہت گھبرایا۔کبھی عینک اُتارتا۔کبھی ادھر جھانکتا کبھی اُدھر۔اور آخر کہنے لگا کہ میں اس مسئلہ کو اس لئے مانتا ہوں کہ عیسائیوں کے گھر میں پیدا ہوا ہوں۔ورنہ میرے پاس اس کے متعلق کوئی دلائل نہیں ہیں۔تو اس میں کچھ شک نہیں کہ اسلام کے سوا جس قدر بھی دوسرے مذاہب ہیں وہ ایسی باتوں کے متعلق تو کچھ نہ کچھ دلائل رکھتے ہیں جو اسلام کے مطابق ہیں۔اور وہ بھی اسلام ہی کے سنے سنائے۔لیکن وہ جو اسلام کے خلاف ہیں۔ان کی ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے یونہی ان کے معتقد ہیں اور اسی وقت تک ان پر شرح صدر رکھتے ہیں جب تک کہ ان کے متعلق انہوں نے سوچانہیں یا غور نہیں کیا۔جس طرح ایک پاگل اپنے آپ کو بادشاہ کہتا ہے اور اس پر شرح صدر بھی رکھتا ہے کیوں اس لئے کہ وہ اس حقیقت کو سوچ نہیں سکتا۔کہ میں کیا ہوں اسی طرح ایک کافر کا کفر پر شرح صدر ہوتا ہے۔لیکن اس لئے نہیں کہ وہ اپنے پاس اسکی تائید میں کوئی معقول دلائل اور براھین رکھتا ہے بلکہ اس لئے کہ اس کو کفر ور انجمنا ملا ہوتا ہے اور وہ اس کے متعلق سوچتا