خطبات محمود (جلد 4) — Page 528
خطبات محمود جلد ۴ ۵۲۸ سال ۱۹۱۵ء ہے ان میں سے ایک ہوا ہے۔اس کی انسان کو سوتے بھی جاگتے بھی چلتے بھی پھرتے بھی بیٹھتے بھی کھاتے بھی پیتے بھی پہنتے بھی اتارتے بھی غرضیکہ ہر وقت اور ہر گھڑی ضرورت ہے اور ہر ایک انسان ہر حالت میں ہوا کا محتاج ہے اور کوئی ایسا وقت انسان پر ایسا نہیں آتا کہ وہ ہوا سے مستغنی ہو۔کبھی ایسا نہیں ہوگا کہ کوئی سوئے اور سانس نہ لے اور پھر زندہ اٹھ کھڑا ہوں۔کبھی ایسا نہیں ہوگا کہ کوئی بنے اور سانس نہ لے۔بلکہ ہر آن اور ہر حالت میں ہر انسان اس کو استعمال کرتا ہے لیکن خدا نے اس کیلئے کوئی قیمت اور کوئی محنت نہیں رکھی۔تم کبھی کسی انسان کو نہ دیکھو گے کہ وہ ہوا کے حصول کیلئے کوشش کر رہا ہو بلکہ خدا تعالیٰ کی چلائی ہوئی ہوا خود بخود اس کے پھیپھڑوں میں چلی جاتی اور اس کو زندہ رکھتی ہے لیکن وہ دوسری چیزیں جن کا انسان محتاج ہے لیکن ہوا سے کم درجہ پر محتاج ہے ان کے حصول کیلئے ضرور محنت کرنی پڑتی ہے۔تم نے کبھی نہیں دیکھا ہوگا کہ پانی جیسی ضروری چیز جس کے بغیر انسان دو یا تین دن کے اندر مرجاتا ہے یا کھانے جیسی ضروری چیز جس کے بغیر پانچ دس دن تک زندہ رہ سکتا ہے کسی کے منہ میں پانی یا کھانا خود بخود چلا گیا ہو۔پانی کبھی خود بخود منہ میں نہیں جاتا۔اس طرح روٹی کبھی اپنے آپ منہ میں نہیں چلی جاتی لیکن ہوا خود بخود جاتی اور ہر وقت جاتی ہے کیوں؟ اس لئے کہ اس کے بغیر تو انسان ایک سیکنڈ بھی زندہ نہیں رہ سکتا۔لیکن کھانے پینے کے بغیر کچھ عرصہ رہ سکتا ہے۔اور ہر وقت ان کی ضرورت نہیں رہتی۔تو چونکہ ان کے بغیر انسان کچھ وقت تک زندہ رہ سکتا ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے ان کے حصول کیلئے کچھ نہ کچھ محنت رکھ دی ہے۔اور وہ ہر ایک امیر سے لے کر غریب تک کو کرنی کی پڑتی ہے۔دیکھو پانی کیلئے اول تو یہ محنت کرنی پڑی ہے کہ کنواں کھودا جاتا ہے۔لیکن اگر کنواں گھر اہوا بھی ہو تو پھر اس سے پانی نکالنا پڑتا ہے اور اگر گھڑوں میں بھی سقہ ڈال جائے تو گھڑے سے نکالنا پڑتا ہے اور اگر کوئی گھڑے سے بھی ڈال دے تو منہ میں ڈال کر حلق سے نیچے کرنا پڑتا ہے۔لیکن اگر کوئی پانی کے پینے کیلئے یہ کہے کہ خود بخود ہی منہ میں چلا جائے اور پھر خود بخود ہی پیٹ میں چلا جائے تو یہ کبھی نہیں ہوسکتا۔اسی طرح کھانے کیلئے ہے۔انسان کو ضرور کچھ نہ کچھ محنت کرنی پڑتی ہے اگر سب کچھ تیار بھی مل جائے تو بھی لقمہ توڑ کر منہ میں ڈالنے، دانتوں سے چبانے اور حلق سے نگنے کی محنت ضرور گوارا کرنی پڑے گی۔پس ہم دنیا میں