خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 527 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 527

خطبات محمود جلد ۴ ۵۲۷ (۹۴) سال ۱۹۱۵ء عرات اور کامیابی محنت کے بغیر حاصل نہیں ہوتی (فرموده ۲۴۔دسمبر ۱۹۱۵ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت فرمائی:۔اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ الَّذِي انْقَضَ ظَهْرَكَ۔وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا فَإِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ وَإِلَى رَبِّكَ فَارُ غَبْ اس کے بعد فرمایا:۔دنیا کی کوئی ترقی اور کوئی کامیابی کوئی عزت اور کوئی رتبہ کوئی درجہ اور کوئی امتیاز ایسا نہیں ہے جو بغیر محنت اور کوشش کے انسان کو حاصل ہو سکے۔جس قدر کوئی چھوٹی کامیابی ہوگی اس کے لحاظ سے انسان کو بھی تھوڑی ہی محنت اور مشقت برداشت کرنی پڑے گی اور جس قدر بڑی کامیابی اور بڑا مدعا ہو گا اسی قدر اس کے حصول کیلئے بہت کوشش اور محنت کرنی پڑے گی۔تو چھوٹے سے چھوٹے کام میں بھی انسان کو کچھ نہ کچھ محنت اور مشکل ضرور پیش آتی ہے ہے سوائے ان چیزوں کے حصول کے جن کی انسان کو ہر وقت اور ہرلمحہ ضرورت رہتی ہے اور جن کے بغیر وہ ایک دم بھی زندہ نہیں رہ سکتا۔باقی جس قدر بھی چیزیں ہیں وہ اسی قسم کی ہیں کہ ان کے لئے انسان کو ضرور تھوڑی بہت محنت مشقت برداشت کرنی پڑتی ہے۔وہ چیز میں جو بغیر محنت کے حاصل ہوتی ہیں اور جن پر انسان کی بقا منحصر ہے اور جن کا ہر وقت وہ محتاج