خطبات محمود (جلد 4) — Page 520
خطبات محمود جلد ۴ ۵۲۰ سال ۱۹۱۹ء ضرورت ہے مگر یہ ان کی جہالت ہے۔روح کو جسم سے تعلق ہوتا ہے۔پس یہ مت خیال کرو کہ ہمارے دل میں ان مہمانوں کی عزت اور محبت ہے جو کچھ دل میں ہے اس کو ظاہر بھی کرو اور صحابہ کی طرح مہمانوں کی خاطر و تواضع کرو۔ایک دفعہ حضرت نبی کریم ملا لیا پی ایم کے پاس کچھ مہمان آگئے تو ایک صحابی نے کہا یا رسول اللہ ! ایک مہمان مجھے دے دیں میں اسے روٹی کھلاؤں گا۔دوسرے نے کہا یا رسول اللہ ! دو مہمان مجھے دے دیں۔جس کے دو مہمان تھے اس کے گھر میں صرف دو ہی آدمیوں کا کھانا تھا اس نے ی بیوی سے کہا کہ بچوں کو سلا دو اور کہہ دو کہ کھانا کھانے کے وقت تم کو جگا دیں گے بچے سو گئے بیوی سے کہا کہ میں تم سے کہوں گا کہ ذرا چراغ کی بتی کو اور اونچا کر دو۔تو تم نے اس طرز سے اونچا کرنا ہے کہ وہ بجھ جائے۔خیر اس نے ایسا ہی کیا۔چراغ بجھنے کے بعد انہوں نے مہمانوں کو کہا کہ آپ اندھیرے میں ہی کھالیں۔دیا تو اب بجھ گیا ہے۔مہمانوں نے کھانا شروع کیا تو یہ بھی اس طرز سے منہ ہلاتے رہے کہ گویا خود بھی کھا رہے ہیں۔جب صبح ہوئی تو وہ شخص نبی کریم صلی یتیم کے پاس آیا۔آپ مسکرائے اور ساتھ ہی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بھی تمہارے اس فعل پر ہنسا اور خوش ہوا۔اللہ تعالیٰ نے نبی کریم کو بتلادیا کہ میں اس شخص پر خوش ہوں 2۔پس تم کو بھی چاہئیے کہ تم مہمانوں کی خدمت میں لگ جاؤ اور کسی قسم کی غفلت نہ کرو کیونکہ مہمان نوازی خدا تعالیٰ کی خوشی کا باعث ہوتی ہے بیشک مہمانداری ایک دوسری چیز ہے۔اور اصل غرض تو دین ہے کی اشاعت اور اتحاد جماعت ہے جس کیلئے جلسہ ہوتا ہے لیکن اگر مہمانوں کو تکلیف ہو تو وہ بے فکر ہو کر اس کام میں کیونکر شریک ہو سکتے ہیں جس کیلئے وہ یہاں آتے ہیں۔پس گو وہ اس لئے یہاں نہیں آتے کہ ی ان کی خاطر کی جائے لیکن آپ لوگوں کی خدمت اصل غرض کے پورا کرنے میں بہت کچھ مدد دے سکتی ہے۔الحج : ١٢ مہر منیر احمد فیض جامعه خوشیه گولر و صفحه ۳۴۔الفضل ۱۸۔دسمبر ۱۹۱۵ء) سے مثنوی مولوی معنوی مولانا جلال الدین رومی دفتر دوم صفحه ۱۵۱ تا ۱۵۳ ناشران اردو باز ارلاہور مترجم قاضی سجاد حسین