خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 511 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 511

خطبات محمود جلد ۴ ۵۱۱ سال ۱۹۱۵ء آیت کے عجیب معنے سو جھتے وہ ایک دوسرے کو سنایا کرتے۔وہ کبھی خدا کی ہستی اور انبیاء کی نبوت کا انکار کر کے اس قسم کی لغو باتوں میں نہ پڑتے۔تم کو بھی چاہئیے کہ جب مسجد میں آؤ بجائے اس کے کہ تم ایسی باتوں میں پڑو اور امام کے آنے تک مباحثات میں لگے رہو یہ باتیں کرو کہ مجھے آج قرآن میں تدبر کرتے کرتے یہ نکتہ سوجھا ہے اور فلاں آیت کے یہ نئے معنے سمجھ آئے ہیں۔اس سے تمہاری روحانی ترقی بھی ہوگی نور ایمان بھی دن بدن بڑھے گا اور تم اپنے اندر ایک بین تبدیلی پاؤگے۔جنگ تبوک میں بھی بعض منافقوں نے مسلمانوں کو یہ کہنا شروع کیا کہ تم بڑے بزدل اور ڈرپوک ہو بڑے کمزور ہو جب حضرت نبی کریم کے پاس یہ معاملہ پہنچا اور آپ نے پوچھا تو جواب میں کہا گیا کہ حضور ہم تو اس لئے کہتے کہ سفر جلدی کٹ جائے گا اور ہم باتوں ہی باتوں میں منزل مقصود تک پہنچ جائیں گے تو خدا تعالیٰ نے اس پر بڑی ڈانٹ دی اور کہا قُلْ أَبِاللهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنتُم تَسْتَهْزِءُونَ۔کیا خدا اور اس کی آیات اور اس کے رسول سے استہزاء کرتے ہو کیا وہی استہزاء کیلئے رد گئے ہیں۔یہ مرض تلوار کی دھار سے بڑھ کر تیز ہے تم کو اس سے بچنا چاہئیے۔نبی کریم صلی می ایستم فرماتے ہیں کہ میں بھی ہنسی کرتا ہوں مگر میری ہنسی میں جھوٹ نہیں ہوتا تم بے شک مذاق کرو مگر اس حد تک کہ اس میں جھوٹ نہ ہوا اور خدا تعالیٰ اور اس کے رسول اور اس کی آیات سے بھی استہزاء اور ہنسی نہ کرو۔خدا تعالیٰ ہماری جماعت کو اس مرض سے محفوظ رکھے اور شیطان سے اپنی پناہ میں رکھے۔آمین الفضل ۲۸۔جولائی ۱۹۶۵ء) ل التوبة : ۶۴ تا ۶۶ ل سورة النباء: البقرة: ٢٦ ه مثنوی مولا نا روم مراد ہے۔حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ المسیح الاول النباء : ام