خطبات محمود (جلد 4) — Page 43
خطبات محمود جلد ۴ ۴۳ سال ۱۹۱۴ء ہو سکتا۔علاوہ ازیں انسان کو اپنے نفس کی اطاعت کرنی پڑتی ہے اور دوستوں کی اور بیوی بچوں کی۔بعض دفعہ بچے ایک بات کرنے کیلئے کہتے ہیں اگر چہ اس کے کرنے کو جی نہ چاہے مگر مجبورا انسان کو ایسا کرنا پڑتا ہے بھائیوں کی بھی بات ماننی پڑتی ہے۔جب یہ بات ہے کہ انسان کو کسی نہ کسی کی اطاعت ضرور کرنی پڑتی ہے تو بہتر یہی ہے کہ انسان اعلیٰ ہستی کی فرمانبرداری کرے۔اور جب کسی نہ کسی کی خدمت کرنی ضروری ہو تو یہی چاہیئے کہ انسان اعلیٰ درجے کے آقا کی خدمت کرے اور ایک اعلیٰ ہستی کے فرمانبردار بنیں يَايُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمْ لا فرمانبردار بنو۔فرمانبرداری تو ہر ایک انسان کر لیتا ہے ہے۔یہاں بتلایا ہے کہ تم اس کے فرمانبردار بنو جو تمہارا رب ہے۔وہ محسن ہے اس نے تمہیں پیدا کیا ہے وہ صرف کسی تھوڑی دیر کیلئے تمہارا رب نہیں ہے بلکہ اس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔اس وقت سے لے کر ہر وقت وہ تمہاری پرورش کرتا ہے۔پھر وہ رب بھی کیسا ہے ربِّكُم تمہارا رب ہے۔انسان ایسے آقا کو اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہے جو انعام دینے کی بھی طاقت رکھتا ہو۔اس لئے فرمایا کہ رب کی اطاعت کرو وہ تمہیں دے گا۔جسے طاقت ہی نہ ہو اور جس کے پاس ہو ہی نہیں اس نے دینا کیا ہے۔اس کے پاس سب کچھ ہے۔وہ رب ہے۔رب بھی تمہارا رب۔عموما محسن جو ہوتے ہیں وہ ساری دنیا پر تو احسان نہیں کرتے۔صرف کسی ایک پر احسان کرتے ہیں تو بھی انہیں محسن سمجھا جاتا ہے۔لیکن اللہ صرف زید و بکر کا ہی محسن نہیں ہے وہ تمہارا سب کا محسن ہے اور تم سب کا رب ہے۔اور وہ ہر وقت تمہاری ربوبیت کرتا ہے۔پھر بعض محسن ہوتے ہیں کہ ان کا احسان صرف ایک محدود وقت تک محدود ہوتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کا احسان کسی خاص وقت تک محدود نہیں ہوتا۔اس کا احسان جب سے تم کو اس نے پیدا کیا ہے اس وقت سے تم پر ہے اور جب سے تمہارا وجود ہے تب سے اس کا احسان تم پر ہے۔اس لئے تمہیں چاہیئے کہ اس کی فرمانبرداری کرو۔پھر بعض لوگوں کا تعلق صرف ہماری ذات سے ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا تعلق صرف ہم سے ہی نہیں ہے۔اس نے ہمارے باپ دادا کو بھی پیدا کیا ہے اور وہ ان کا بھی محسن ہے اور ہمارا بھی وہ محسن ہے۔وہ ہمارا آقا ہے اور وہ ہمارا مہربان بھی ہے۔وہ بادشاہ ہے وہ کسی کا محکوم نہیں ہے بلکہ وہ حاکم ہے حکومت کرتا ہے۔وہ حسن ہے چند روز سے نہیں بلکہ جب سے تم پیدا ہوئے تب سے ہے۔پھر صرف تمہارا ہی وہ محسن نہیں ہے بلکہ تمہارے آباء واجداد کا بھی محسن ہے۔