خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 504 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 504

خطبات محمود جلد - ۴ ۵۰۴ سال ۱۹۱۵ صرف اس لئے نا امید ہوتے ہو کہ لوگ نہیں سنتے نہیں یہ خیال مت کرو، جو آج نہیں سنتا وہ کل سنے گا جو اس مہینے میں نہیں سنتا وہ اگلے مہینے میں سنے گا۔ جو آج تم سے نفرت کرتا ہے وہ کل تم سے محبت اور اُلفت کرے گا۔ اگر آج دور رہتا ہے تو کل قریب آئے گا۔ کیا یہ سچ نہیں کہ ہم میں بہت سے ایسے احمدی موجود ہیں جو پہلے سخت مخالف تھے۔ لیکن آج دین پر جان قربان کرتے ہیں۔ پھر کیا وہ ہمارے لئے سبق نہیں کہ ہر ایک کام اپنے وقت پر ہوتا ہے اور جو لوگ : اہے اور جو لوگ ہمارے سخت مخالف ہیں ان سے ہمیں بالکل نہیں ڈرنا چاہئیے نا امید نہیں ہونا ۔ ا چاہئیے کیونکہ نہیں معلوم کہ جب ہم مایوس ہو کر بیٹھ گئے وہی وقت ان کی ہدایت کا ہو۔ پس ہمیں چاہئیے کہ ہم اس وقت تک اپنے کام کو نہ چھوڑیں جب تک کہ موت ہمارے ہونٹوں کو بند نہ کر دے۔ اس میں شک نہیں کہ اس وقت بھی ہماری جماعت ترقی کر رہی ہے لیکن ترقی کی جو رفتار ہے وہ بہت آہستہ اور شست ہے۔ در حقیقت اگر سو چو تو یہ ہماری غفلتوں اور سستیوں کا نتیجہ ہے۔ اسلام بھی اس وقت یوسف کی طرح غلام ہو کر پک رہا ہے تم اس کوشش میں لگ جاؤ کہ خدا کا چہرہ نظر آئے کیا تمہاری آنکھیں اس بات کو دیکھنے کی خواہش نہیں رکھتیں کہ لا الہ الا اللہ کہنے والے چاروں طرف نظر آئیں ۔ کیا تمہارا دل نہیں چاہتا کہ مسیح موعود کو دجال کہنے کی بجائے انہیں نبی کہا جائے۔ مبارک ہیں وہ جن کے ذریعہ یہ کام ہوتا ہے وہ وقت آئے گا اور ضرور آئے گا جب یہ کام ہو کر رہیں گے کیونکہ یہ خدا کے وعدے ہیں جو ضرور پورے ہوں گے لیکن کاش وہ دن ہم اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور ہمارے ذریعہ ہوں تا ہم برکت پائیں اور ہم ہی ان درجات کو حاصل کرنے والے ہوں ۔ اسلام کو لانے والے اور اسی طرح ثریا سے ایمان لانے والے کا نام دنیا میں بلند دیکھیں خدا تعالیٰ ہماری محنتوں کو ضائع نہیں کرے گا۔ پس تم ہوشیار ہو جاؤ یہی تمہارے کام کرنے کے دن ہیں تم تھک کرمت بیٹھو۔ میں پھر کہتا ہوں يُبَنِي اذْهَبُوا فَتَحَسَّسُوا مِنْ يُوسُفَ وَأَخِيهِ وَلَا تَأْيُنَسُوا مِن رَّوْحِ الله ناام ۔ اے میرے بیٹو! تم اسلام کی خبر لو اور اس سے غافل اور نا امید نہ ہو۔ روح کے معنے نصرت ! معنے نصرت اور فضل اور آرام کے ہیں پس تم خدا تعالیٰ کی نصرت اور مدد سے نا امید نہ ہو۔ خدا تعالیٰ تمہیں توفیق دے کہ تم ان انعامات کے وارث بنو۔ آمین الفضل ۲۱ نومبر ۱۹۱۵ء) لے یوسف : ۸۸ ۲ ترمذی کتاب العلم باب ما جاء في فضل الفقه على العبادة