خطبات محمود (جلد 4) — Page 502
خطبات محمود جلد ۴ ۵۰۲ سال ۱۹۱۵ء یوسف نہیں مل سکتے تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے انہیں کہا کہ خدا کی نصرت سے نا امید نہ ہو کیونکہ جب خدا تعالیٰ نے میرے دل میں یہ تحریک پیدا کی ہے تو وہ ضرور مل جائے گا ، اس لئے تم اس کی تلاش میں مایوس ہو کر مت بیٹھ جاؤ۔یوسف جو ایک حسین انسان تھے اور جن سے ایک جسمانی رشتہ تھا اس کی تلاش سے حضرت یعقوب نہیں تھکے اور نا امید نہیں ہوئے تو اسلام جو سب حسینوں سے زیادہ حسین ، سب خوبصورتوں سے زیادہ خوبصورت ہے بلکہ ہمارے مُردہ دلوں کیلئے آب حیات ہے، اس کے کھوئے جانے پر اس کی تلاش کرنے کیلئے ہمیں کتنی محنت اور کوشش کی ضرورت ہے۔لیکن افسوس کوئی اس کی تلاش نہیں کرتا۔اس کی تلاش کرنے والے نا امید ہو کر بیٹھ گئے ہیں۔سنو اور کان کھول کر سنو کہ موت کا کوئی اعتبار نہیں کہ کس وقت آجائے یہ وقت ضائع کرنے کا وقت نہیں۔خواہ دنیا ہمیں پاگل ہی کہے خواہ تمہارے نفس بھی تم کو مجنون کہیں اور ملامت کریں لیکن تم اپنے کام میں لگے رہو اور کسی طرف توجہ نہ کرو۔جب خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ یہ اسلام کی ترقی اور عروج کا وقت ہے اور خدا تعالیٰ کے وعدے ہمارے سامنے ہیں کہ اسلام تمام مذاہب پر غالب رہے گا تو شیطان اگر لاکھوں مصیبتوں اور ابتلاؤں اور مشکلات کے پہاڑ تمہارے سامنے کھڑے کر دے تو بھی تم ان کو کاٹ ڈالو۔اگر وہ طرح طرح کی روکیں پیدا کرے تو ان کی پرواہ نہ کرو۔کیونکہ اس وقت شیطان تمہارے مقابلہ میں اپنی ساری طاقت اور تدابیر خرچ کرے گا۔پس تم اپنے مدعا کو حاصل کرنے کیلئے غافل اور نان امید نہ ہو جاؤ کیونکہ خدا کے وعدے ہمیں تسلی دے رہے ہیں۔وہ شخص جو خدا تعالیٰ کی تائید سے نا امید ہو کر بیٹھتا ہے وہ اس کے انعاموں کا وارث نہیں ہوسکتا۔پس تم تبلیغ کیلئے کوشش کرو اور غافل اور نا امید ہو کر مت بیٹھو۔جو لوگ اس پیغام کو سنیں وہ عمل کریں اور لوگوں تک اس پیغام کو پہنچا ئیں۔نبی ﷺ کریم ﷺ فرماتے ہیں الْحِكْمَةُ ضَالَّهُ الْمُؤْمِن ہے کہ کلمہ حکمت مؤمن کی گم شدہ چیز ہے اس کی تلاش میں رہے اور جہاں مل جائے اسے لے لے۔یہاں کلمہ حکمت کا نام مؤمن کی گمشدہ شے رکھ کر مسلمان کو ہے بتلایا کہ جس طرح گم شدہ اشیاء کو انسان تلاش کرتا رہتا ہے، اسی طرح کلمہ حکمت کی تلاش مسلمان کو لگی رہنی چاہئیے۔پس جب کہ کلمہ حکمت مومن کا یوسف ہے جس کی تلاش کرنی اس کیلئے ضروری ہے تو وہ سعید روحیں جو بہت سے کلمات حکمت کی حامل ہو سکیں اس انتظار میں ہیں کہ کوئی ان کو حق بتائے تو وہ اسے قبول الله