خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 501 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 501

خطبات محمود جلد ۴ ۵۰۱ سال ۱۹۱۵ء ہو کہ خدا کی اس آواز کو سنیں تو نَعُوذُ باللہ خدا تعالیٰ کا اپنے پاک بندوں کو ایسے وقت میں بھیجنا ایک لغو کام سمجھا جائے گا۔ایسا کہنے والا خدا تعالیٰ پر الزام دیتا ہے۔نادان لوگ کہتے ہیں کہ مرزا صاحب کا ذکر کرنا ٹھیک نہیں یا یہ کہ ان کے ذکر سے اسلام کی ترقی نہیں ہو سکتی یا یہ کہ ان کے ذکر کرنے کی ضرورت ہے نہیں۔میں کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے جب وہ عالم الغیب ہے تو اس نے کیوں بلا وجہ مرزا صاحب کو بھیج دیا۔کیا وہ نہیں جانتا کہ اس وقت دنیا کو کسی بادی کی ضرورت ہے یا نہیں۔موجودہ زمانے کی خطرناک حالت یہ پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ اس وقت خدا تعالیٰ کے کسی پاک انسان کی ضرورت ہے جو دنیا کو ان کے گناہوں سے پاک اور مطہر کرے۔لوگ ان کی مخالفت کرتے ہیں لیکن جو شخص مشکلات اور روکوں کو دیکھ کر ہمت و استقلال سے کام نہیں لیتا ہے اور پیچھے ہٹتا ہے وہ خدا تعالیٰ کی رحمت سے نا امید ہے۔نبی کریم سای ایام کو دیکھ کرکون کہہ سکتا تھا کہ یہ دین تمام ادیان باطلہ پر غالب آجائے گا۔اور کون کہ سکتا تھا کہ یہ لوگ تمام دنیا کے فاتح بن جائیں گے اور دنیا کے چاروں کونوں تک لا إلهَ إِلَّا اللہ کا نعرہ بلند کریں گے۔لیکن خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ اس وقت لوگوں کے دل خواہش مند ہیں کہ خدا کی طرف سے کوئی آواز آئے جو ان کو خواب غفلت سے جگائے۔اور یہ خواہش ایسی پوشیدہ تھی کہ خود وہ لوگ بھی اس کے سے واقف نہ تھے جن کے دلوں میں وہ خواہش موجود تھی۔چنانچہ آپ کی بعثت پر سوائے چند سعید روحوں کے باقی سب لوگ آپ کی مخالفت پر تل گئے لیکن آہستہ آہستہ وہ فطرتی تڑپ جو بجھتی تھی کہ اس آب حیات کے بعد میری زندگی محال ہے غالب آتی گئی اور فوج در فوج لوگ اسلام میں داخل ہونے لگے۔اسی طرح آج کل کے لوگوں کا حال ہے کہ گو وہ حضرت مسیح موعود کی مخالفت کرتے ہیں لیکن در حقیقت ان کے دلوں کے اندر سے ایک آواز اٹھ رہی ہے کہ اس شخص کے قبول کرنے کے بغیر ہماری نجات نہیں۔بعض کے دلوں میں ابھی یہ آواز بہت کمزور ہے بعض لوگوں کے دلوں میں زیادہ زور سے ہے۔لیکن آہستہ آہستہ وہ بھی بلند ہوتی جائے گی اور جو لوگ کہ آج نہیں سنتے وہ پھر سنیں گے۔پس یہ کم ہمتی ہے جو بعض لوگ کہہ یتے ہیں کہ لوگ ہماری بات نہیں سنتے۔تم ہمت نہ ہار و وہ آج نہیں تو پھر سنیں گے۔میرا اس آیت کے پڑھنے سے مدعا اپنی جماعت کو اس بات کی طرف متوجہ کرنا ہے کہ وہ بے استقلالی سے کام۔یوسف علیہ السلام کو جب اہل قافلہ نکال کر لے گئے تو ان کے بھائیوں نے خیال کیا کہ اب