خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 42 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 42

خطبات محمود جلد ۴ ۴۲ (۱۲) سال ۱۹۱۴ء اپنے رب کے فرمانبردار بنو فرموده ۶ - مارچ ۱۹۱۴ء بمقام قادیان ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضرت صاحبزادہ صاحب نے سورۃ بقرہ کے رکوع سوم کی پہلی چند آیات پڑھ کر فرمایا:۔ پچھلے دور کوع میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کی غرض اور اس کی ضرورت اور قرآن کا دعوی بتلایا ہے اور یہ بھی بتلایا ہے کہ جو لوگ اس کے احکام پر عمل کریں گے ان کو ان کے اجر ملیں گے اور ان کو انعام دیا جائے گا۔ اور جو لوگ انکار کریں گے اور اس کے احکام پر عمل نہ کریں گے ان کو سزادی جاوے گی اور انہیں عذاب ہوگا۔ اور ایک فرقہ جس کے افراد ہمت سے کام نہیں لیتے اور وہ نفاق سے کام لیتے ہیں ان کو بھی کفار کے ساتھ شامل کیا ہے۔ وہ بظاہر اپنے آپ کو کفار سے الگ بتلاتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو کفار کے ساتھ شامل کیا ہے۔ اب جبکہ بظاہر تین قسم کے گروہ ہو گئے تو اللہ تعالیٰ بتلاتا ہے کہ تم کو کونسا طریق اختیار کرنا چاہیئے ۔ انسان کو کسی نہ کسی کی عبادت کرنی ضروری ہوتی ہے۔ انسان کو ضرور کسی کی اطاعت نہ کرنا انسان کو ان کی عبادت کردار کی ہوئی ہے ان کا ضرور کی اطاعتی کرنی پڑتی ہے۔ دنیا میں کوئی ایسا نہ ملے گا جو کسی نہ کسی کی اطاعت میں نہ ہو۔ بچپن میں آدمی اپنے والدین کی اطاعت کرتا ہے۔ اگر ان کی اطاعت نہ کرے تو اس کی تربیت اچھی نہیں ہوگی اور جوانی میں استاد کی اطاعت کرنی ہوتی ہے ۔ اس طرح بڑے ہو کر آدمی کو حکومت کی فرمانبرداری کرنی پڑتی ہے۔ اگر حکومت کی اطاعت نہ کی جائے گی تو آدمی عمدہ شہری نہیں