خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 488 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 488

خطبات محمود جلد - ۴ ۴۸۸ سال ۱۹۱۵ اس لئے اس وقت کے علوم وفنون مٹ گئے کیونکہ وہ باتیں لکھی نہ گئیں ۔ آج ہم مصر میں ایسے مردوں کی لاشیں دیکھتے ہیں جن کو کسی مصالحہ سے رکھا گیا ہے لیکن یہ معلوم نہیں ہو سکتا کہ وہ کیا مصالحہ ہے اور اس کے متعلق کوئی تحریر نہیں ملتی لیکن اس زمانہ میں علوم کی ترقی نے رڈی چیزوں سے بھی بڑے بڑے فائدے نکال دیتے ہیں۔ اسی طرح اور بہت سی چیزیں ہیں جن کو انسان نے لغو سمجھا تھا مثلاً انسان کے جسم میں ہی بعض ایسے اجزاء ہیں جن کو بیکار اور فضول قرار دیا گیا تھا۔ ایک زمانہ تھا کہ تلی کو لغو سمجھا جاتا تھا اور اسی طرح باریک انتڑیوں کے نیچے ایک چھوٹا سا ٹکڑا انتری کا علیحدہ ہوتا ہے اس کو بیکار اور فضول سمجھا جاتا تھا۔ اور ابھی کوئی لمبا عرصہ نہیں گزرا کہ ڈاکٹروں نے فتوی دیا تھا کہ اگر اس میں ورم پیدا ہو جائے تو بجائے اس کا علاج کرنے کے اس کو کاٹ کر نکال دینا انسب ہے لیکن تحقیقات جدیدہ نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ خیال غلط تھا اور یہ حصہ نہایت مفید اور ضروری حصہ جسم ہے۔ چنانچہ فرانس کے ایک ڈاکٹر نے اس کے متعلق تجربہ کر کے اسکی ضرورت کو ثابت کر دیا ہے کہ اس رودہ سے میں وہ سیال مادہ جمع رہتا ہے جس سے امعاء کے پردوں میں ہیجان پیدا ہوتا ہے اور اگر یہ سیال مادہ اس رودہ میں موجود نہ ہو تو یہ رودہ اپنے فعل کو سر انجام نہیں دے سکتا۔ اس ڈاکٹر نے اس بات کا اس طرح تجربہ کیا ہے کہ دو درجن جوان اور تندرست بندر منگوا کر ان میں سے نصف بندروں کے اندر سے یہ حصہ کاٹ کر نکال دیا اور باقی بندروں کو بحال رکھ کر سب کو الگ الگ پنجروں میں بند کروادیا۔ اور سب کو برابر مقدار میں ایک ہی غذا دینے کا انتظام کیا۔ دو دن کے بعد معائنہ کرنے پر معلوم ہوا کہ رودہ بریدہ بندروں کی انتڑیوں کی حرکت میں کمی آ گئی ہے اور ایک ہفتہ کے بعد تو نمایاں فرق پایا گیا اور ان کے قومی مضمحل ہونے لگے اور ان میں حسب عادت دوڑنے کی سکت نہ رہی۔ بال گرنے لگے، آنکھوں کی رنگت بدل گئی اور زبانوں پر جھلی چھا گئی اور اس امر میں شبہ کی کچھ گنجائش باقی نہ رہی کہ ان بندروں کی قوت ہاضمہ باطل ہوگئی ہے۔ باقی بندر جن کا یہ رودہ نہیں کاٹا گیا تھا بالکل تندرست اور چست رہے۔ تو اب یہ رودہ بھی لغو نہیں سمجھا جاتا بلکہ صحت کے قائم رکھنے کیلئے ضروری خیال کیا جاتا ہے۔ غرضیکہ ہر ایک ایسی چیز جس کو انسان نے لغو اور فضول سمجھا ہوا تھا اسے بھی تجربوں اور علوم نے مفید اور فائدہ مند ثابت کر کے بتا دیا کہ خدا تعالیٰ کی بنائی ہوئی کوئی چیز لغو نہیں کی