خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 481 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 481

خطبات محمود جلد - ۴ لد ۱۷ سال ۱۹۱۵ مقرب بندے ہوتے ہیں وہ اپنے اموال اور اپنی جانوں دونوں نعمتوں کو خدا تعالیٰ کے راستہ میں خرچ کرتے ہیں۔ پس انسان میں جب تک یہ دونوں باتیں جمع نہ ہوں وہ کامل مجاہد نہیں بنتا۔ صحابہ کرام کو جب ہم دیکھتے ہیں تو ان کی زندگی میں یہ نمونہ پاتے ہیں۔ ہماری جماعت کے لوگ اموال خرچ کرنے میں تو خدا کے فضل سے بہت حصہ لیتے ہیں لیکن اَنفُسِهِمْ کی طرف بہت کم توجہ ہے ۔ صحابہ کی یہ حالت تھی کہ وہ اپنا مال و جان خدا تعالیٰ کیلئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لاکر رکھ دیتے تھے اور جنگوں کے وقت بھی وہ سب سے آگے دکھائی دیتے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم اسی کو سب سے بہادر سمجھتے تھے جو نبی کریم صلی السلام کے پاس اور آپ کے ارد گرد رہا کرتا تھا اور ہمیشہ آپ کے پاس حضرت ابوبکر رہتے تھے بات یہ ہے کہ دشمن ہمیشہ یہی چاہتا ہے کہ پہلے جرنیل کو مارا جائے اور اسی جگہ دشمن کے زیادہ حملے ہوتے ہیں اور وہیں اس کا زیادہ زور ہوتا ہے ۔ ان زبردست حملوں کو روکنے کیلئے بڑی بہادری کی ضرورت ہوتی ہے اور جرنیل کی حفاظت کرنے والا اور اس کے ارد گرد رہنے والا ہی ہمیشہ بہادر سمجھا جاتا ہے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضرت عمرؓ نے چاہا کہ ابو بکر سے بڑھ جائیں اور جس قدر مال ان کے پاس آیا تھا اس کا نصف حضرت نبی کریم صلی الا السلام کے سامنے لا کر رکھ دیا اور انہوں نے یہ خیال کیا کہ بس اب میں ابوبکر سے بڑھ گیا ہوں ۔ لیکن جس وقت حضرت ابو بکر بھی جو کچھ گھر میں موجود تھا لے آئے تو نبی کریم نے عمر سے پوچھا۔ عمر تو نے اپنے گھر میں اپنے اہل و عیال کیلئے کیا چھوڑا ہے؟ انہوں نے جواب میں کہا۔ یا رسول اللہ ! نصف کا ند ! نصف گھر چھوڑ آیا ہوں اور نصف حضور کے پاس لے آیا ہوں ۔ ابوبکر سے پوچھا کہ تم کیا لائے ہو؟ اور گھر والوں کیلئے کیا چھوڑا ہے۔ تو آپ نے جواب دیا یا رسول اللہ ! جو کچھ گھر میں موجود تھا سب کچھ حضور کی خدمت میں حاضر ہے ہے ۔ ان دونوں روایتوں کو ملا کر معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص اپنے مال کے انفاق میں دوسرے لوگوں پر فوقیت رکھتا تھا اپنی جان کے انفاق میں بھی سب سے آگے تھا۔ الغرض ان لوگوں نے خدا کیلئے جان بھی خرچ کی، مال بھی خرچ کیا ، خدا کے راستے میں لڑے بھی ۔ وہ صرف اس بات کو کافی نہ سمجھتے تھے کہ ہم نے روپیہ خرچ کر دیا یا صرف لڑائی کو ہی کافی سمجھتے نہیں بلکہ وہ دونوں چیزوں کو خدا کیلئے خرچ کرنا ضروری سمجھتے تھے۔ اسی لئے تو خدا تعالیٰ نے ان کو کامل مجاہد کہا اور اس آیت کے مصداق بنایا ہے۔ یہی وہ بات تھی جس کے مقابلہ میں