خطبات محمود (جلد 4) — Page 472
خطبات محمود جلد ۴ ۴۷۲ سال ۱۹۱۵ ہاں ایسی باتوں پر جوٹھٹھے کئے گئے ہیں مجھے ان سے بہت خوشی ہوئی ہے کیونکہ جیسا میں نے آیات قرآنی ابتدائے خطبہ میں پڑھی ہیں یہ تشَابَهَتْ قُلُوبُهُمْ کا نظارہ میرے سامنے ہے۔ ایک ایک اعتراض جو اس بارے میں مجھ پر کیا گیا ہے میں خدا کے فضل سے ثابت کر سکتا ہوں کہ یہی اعتراض تقریبا انہی الفاظ میں اسی مفہوم کے ساتھ غیر احمدیوں نے حضرت اقدس پر کئے ۔ حضرت صاحب کو ایک رویا ہوئی کہ قرآن مجید میں نصف کے قریب دائیں طرف قادیان کا نام لکھا ہے۔ اب غیر احمدی اس پر ہنسی اُڑاتے ہیں اور حافظان قرآن سے شہادتیں دلوا دلوا کر اپنی مجلسوں میں کہتے ہیں کیوں بھئی ! قرآن کریم میں کہیں قادیان کا نام لکھا تم نے دیکھا ہے۔ نادان اتنا نہیں سوچتے کہ خواہیں انسان کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتیں۔ جو خدا تعالیٰ دکھائے انسان دیکھتا ہے اور جتنا خدا دکھائے اتنا ہی انسان دیکھ سکتا ہے۔ پس حضرت اقدس کے بارے میں ان لوگوں کا یہ کہنا کہ فلاں بات بھی خدا سے پوچھ لینی تھی ایک بے ادبی اور گستاخی ہے۔ ایسا ہی جماعت احمد یہ میں وہ شخص جو اپنے آپ کو راہ صداقت کا سب سے بڑا حامی سمجھتا ہے لکھتا ۔ ہے کہ مونہہ در مونہہ بھی خدا نے آخر بات کی تو امر متنازعہ پر کوئی روشنی نہ ڈالی کہ نبوت کاملہ ہے یا جزوی حقیقی ہے یا مجازی اور آپ نے بھی اس جھگڑے کا علم ہونے کے باوجود دریافت نہ کر لیا اور ایسا عجیب موقع یونہی گنوا دیا۔ هے یہ وہی اعتراض ہے جو غیر احمدی حضرت اقدس پر کیا کرتے تھے۔ میں جواب میں کہتا ہوں کہ جب میرا آقا ، میرا سر دار نہ پوچھ سکا تو میں کیا ہوں اور کیا حیثیت رکھتا ہوں جو اس ذو الجلال کے دربار میں بڑھ میر سردارنہ پوچھ سکتا کر بات کر سکتا ۔ وہ قدسی نفس جس کی حضرت نوٹ سے لے کر ختم الرسل تک تمام انبیاء علیہم السلام نے خبر دی وہ تو یہ نہ کر سکا کہ جو چاہتا پوچھ لیتا تو میں اس کے غلاموں میں سے ادنی غلام ہوں۔ میں کیا حیثیت رکھتا ہوں کہ وہاں بات کرتا ۔ خدائے ذوالجلال کے دربار میں تو آنحضرت صلی ال کی ایم جیسے خاتم کمالات انسانیت ایک مخلوق کی ہی حیثیت رکھتے ہیں وہ بے شک ہمارے آقا ہیں ، ہمارے سردار ہیں، ہمارے ہادی ہیں، ہمارے پیشوا ہیں، ہمارے مولی ہیں مگر اس بادشاہ کے حضور تو وہ بھی بڑھ کر بات کرنے کی مجال نہیں رکھتے ۔ تو میں جو غلاموں میں سے ادنی ترین غلام ہوں بھلا میں کیا کر سکتا تھا کہ یہ بات بھی مجھے بتاؤ اور یہ بھی کرو۔ دل بدل گئے ہیں ان میں خوف الہی کم ہو گیا ہے اور ایسے ایسے اعتراض