خطبات محمود (جلد 4) — Page 466
خطبات محمود جلد ۴ سال ۱۹۱۵ء لیکن نادانی سے جب لوگ مختلف معاملات میں پڑتے اور خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستہ پر غور نہیں کرتے اور اپنی کوتاہ نظری سے اور طرف نکل جاتے ہیں اور اس حقیقت سے بے خبر ہو جاتے ہیں جو خدا تعالیٰ کے احکام میں ہوتی ہے۔چنانچہ مسلمانوں نے اسی راہ پر چل کر ان راستوں کو چھوڑ دیا جو خدا تعالیٰ نے ان کیلئے مقرر کئے تھے۔اس کی ایک مثال یہ ہے کہ گورنمنٹ انگریزی نے جب مسلمانوں سے دریافت کیا کہ تم لوگ تقسیم وراثت میں کیا طریق اختیار کرنا چاہتے ہو تو بہت سے مسلمانوں نے حکام سے کہ دیا کہ ہم شریعت کے رُو سے تقسیم وراثت نہیں چاہتے بلکہ رواج کے مطابق چاہتے ہیں جب گورنمنٹ کے اہلکاروں نے پوچھا تو بہت سے مولویوں ، جاہلوں ، امیروں، غریبوں نے یہی جواب دیا کہ ہمیں شریعت کی تقسیم منظور نہیں ہم رواج پر چلنا چاہتے ہیں اور یہی بات انہوں نے سرکار میں لکھوا دی۔ان کے اس فعل کا جو کچھ نتیجہ نکلا اور جس غرض کو اپنے دل میں رکھ کر انہوں نے یہ لکھوایا تھا وہ کہاں تک پوری ہوئی اس کے بیان کرنے کیلئے نہ اتنا وقت ہے اور نہ خطبہ سے اس کا تعلق۔مگر ہر ایک مسلمان اس بات کو خوب جانتا ہے کہ جس دن سے انہوں نے یہ لکھوایا ہے کہ ہم شریعت کے مطابق نہیں بلکہ رواج کے رُو سے تقسیم وراثت کریں گے اسی دن سے ان کی جائیداد میں غیر مذاہب والوں کے پاس جانی شروع ہوگئی ہیں۔اور اس وقت پچیس تیس یا پچاس فیصدی تک پک چکی ہیں اور وہ غرض جو ان کے کے دلوں میں تھی وہ پوری نہ ہوئی۔انہوں نے سمجھا تھا کہ اس طرح ہماری جائدادیں محفوظ رہیں گی کیونکہ اگر لڑکی کو بھی حصہ دیا جائے تو وہ چونکہ دوسری جگہ بیاہی جاتی ہے اس لئے وہ جائداد دوسروں کے پاس چلی جائے گی اور اگر لڑکوں میں ہی جائدادر ہے تو اپنے گھر میں ہی رہے گی اور دوسرے کے پاس جانے سے محفوظ ہو جائے گی حالانکہ یہ خیال بالکل لغو اور بیہودہ تھا مثلاً ایک شخص کے چار بیٹے ہوں اور ایک بیٹی تو اگر ایک بیٹی اپنا حصہ لے جائے گی تو چار بہوئیں لے بھی تو آئیں گی۔سود نیاوی لحاظ سے بھی لڑکیوں کو حصہ دینا موجب نقصان نہیں اور نہ جائدادوں کو اس طرح کچھ ضرر پہنچتا ہے لیکن اس پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے سخت نقصان اٹھانا پڑا۔خدا تعالیٰ کا حکم توڑنے کی وجہ سے گناہ گار ہوئے وہ الگ ، اور دنیا میں جو ذلت اور رسوائی حاصل ہوئی وہ جُدا رہی۔کسی نے کہا ہے۔ینہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے