خطبات محمود (جلد 4) — Page 463
خطبات محمود جلد - ۴ ۴۶۳ سال ۱۹۱۵ء ہی جائے گا کیونکہ ایسا ترجمہ جس کے کرنے والا کہتا ہے قُلِ اللهُ ثُمَّ ذَرْهُمْ - الله منوا کر چھوڑ دو ۔ ہم چھاپ نہیں سکتے ۔ اور اگر اس کی اصلاح کر کے چھپوائیں تو جو محنت اس پر کریں گے اس سے کم میں نیا کیوں نہ تیار کر لیں۔ حضرت خلیفہ مسیح الاول ایک مثال بیان فرمایا کرتے تھے کہ ایک عورت کے زیورات ایک چور لے گیا۔ اس نے چور کی شکل رات دیکھ لی تھی۔ ایک دن جو وہ گلی میں بیٹھی چرخہ کات رہی تھی تو وہی چور گزرا۔ عورت نے اس کو کہا کہ ذرا میری بات تو سن جاؤ ۔ وہ ڈر کے مارے بھاگا تو اس نے کہا میں تمہیں پکڑواتی نہیں صرف بات سن جاؤ ۔ جب وہ ٹھہرا تو اس نے کہا کہ دیکھو تم سب زیورات لوٹ کر لے گئے تھے لیکن میرے ہاتھ میں پہلے سے بھی زیادہ موٹے کڑے ہیں اور تمہاری ٹانگوں میں وہی پہلی لنگوٹی ہے۔ تو بیشک وہ اپنی طرف سے صفایا کر گئے ہیں لیکن ہمیں یقین ہے کہ ان کی لنگوٹی ہی رہے گی اور ہمیں خدا تعالیٰ اور کڑے دے دے گا۔ پس چاہیئے کہ ہم بھی اسی طرح کریں اور کہیں کہ اگر ترجمہ لے گئے ہیں تو لے جائیں انہیں کیلئے وبال جان ہو گا ہمیں خدا تعالیٰ اس سے بہتر اور بہت بہتر دے گا اور انشاء اللہ مبارک دے گا۔ مفید تو وہی شے ہوتی ہے جو مبارک ہو۔ بہت لیکچرار ایسے ہوتے ہیں جو بڑی لمبی لمبی اور فصیح تقریریں کرتے ہیں لیکن ان کا اثر نہیں ہوتا اور کسی اور کے دو کلمے اثر کر جاتے ہیں اور اصل کلام بھی اسی کا ہے جسے خدا تعالیٰ سے اثر ملا ہو۔ پس جبکہ ہمیں یقین ہے کہ خدا تعالیٰ ہم کو اس ترجمہ سے بہتر ترجمہ ہی نہ دے گا بلکہ با برکت بھی دے گا تو پھر اس کے لینے کیلئے کوشش کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ دنیا میں صرف عمدہ تحریر کوئی شے نہیں بلکہ اس قابل التفات تحریر کا اثر ہوتا ہے جو صدق و اخلاص سے لکھی جائے ۔ اس وقت دنیا میں سے بلد ان قابل التفات تحریر کا تر ہوتا ہے جو صدق و اخلاس سے بھی جائے۔ اس وقہ ایسے لوگ ہیں جن کی تحریریں علم ادب کا اعلیٰ نمونہ بھی گئی ہیں لیکن انہیں وہ کمال کہاں حاصل ہوا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہوا۔ حالانکہ آپ اردو کے اشعار میں ” جندا“ بھی استعمال کر گئے ہیں۔ لیکن ان اشعار کو پڑھ کر مخالف بھی ایسا متاثر ہوتا ہے کہ کھنچا چلا آتا ہے اور وہ شعر جو گھوٹ گھوٹ کر لکھے جاتے ہیں کچھ اثر نہیں کرتے۔ اثر پس ہمیں کسی کی لفاظی پر لٹو نہیں ہونا چاہئیے اور مفید اور بابرکت کی تلاش کرنی چاہئیے جو خدا تعالیٰ ہمیں انشاء اللہ ضرور دے گا ۔ ہمارے کڑے پھر بھی بن جائیں گے ۔ مگر ان کا یہ فعل ان کیلئے ہمیشہ ذلت کا موجب رہے گا ۔ پس میری اپنی رائے یہ ہے کہ بجائے اس کے کہ