خطبات محمود (جلد 4) — Page 443
خطبات محمود جلد ۴ ۴۴۳ (۸۳) خواجہ صاحب کے مطالبہ حلف کا جواب (فرموده ۱۰ ستمبر ۱۹۱۵ء) سال ۱۹۱۵؛ تشہد ،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت فرمائی:۔وَقُل رَّبِّ ادْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِى مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَل لِي مِن لَّدُنْكَ سُلْطَانًا نَّصِيرًا وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا وَنُنَزِلُ مِن الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ وَلَا يَزِيدُ الظَّلِمِينَ إِلَّا خَسَارًا۔وَإِذَا انْعَمْنَا عَلَى الْإِنْسَانِ أَعْرَضَ وَنَا بِجَانِبِهِ وَإِذَا مَسَّهُ اللهُ كَانَ يَمُوسًا قُلْ كُلٌّ يَعْمَلُ عَلى شَاكِلَتِهِ فَرَبُّكُمْ أَعْلَمُ مَنْ هُوَ أَهْدَى سَبِيلًا - اس کے بعد فرمایا:۔جب تک کسی انسان کو کوئی انعام نہیں ملا ہوتا اس وقت تک تو وہ بڑی نا امیدی کا اظہار کرتا ہے اور اس کا دل بیٹھا جاتا ہے اور وہ ہمت ہارے ہوئے ہوتا ہے لیکن جونہی خدا تعالیٰ کی طرف سے اس پر۔انعام اور فضل نازل ہوتا ہے بہت سے انسان ایسے ہوتے ہیں جو بڑا غرور اور تکبر کرتے اور یہ سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ جو کچھ ہیں ہم ہی ہیں اور ہم نے خود ہی اپنی سمجھے، اپنی عقل ، اپنی کوشش اور اپنے فہم سے یہ انعام حاصل کر لئے ہیں ، خدا کے فضل کا اس میں کچھ دخل نہیں۔ایسے کسی انسان پر ذرا خدا کا فضل اور احسان ہوا اور اس نے خدا تعالیٰ کی طرف سے منہ موڑ لیا۔اور جب ذرا سزا ، غضب اور دکھ ہوا تو جھٹ کمر توڑ کر بیٹھ رہا۔کمزور طبائع کا ہمیشہ یہی حال رہا ہے۔اور جب سے یہ انسان پیدا ہوا اور جب سے اس