خطبات محمود (جلد 4) — Page 439
خطبات محمود جلد ۴ لدلم سال ۱۹۱۵ يُقِيمُونَ الصَّلوةَ نماز کو ہمیشہ قائم رکھتے ہیں۔ اس کے معنے نماز کے تمام پہلوؤں کو مد نظر رکھنا اور کوئی نقص اور کمزوری نہ کرنا بھی ہیں۔ یعنی وہ نمازوں کو اس طرح پر ادا کرتے ہیں کہ کوئی کمزوری نہیں رہنے دیتے یعنی نماز کے کل ظاہری اور باطنی شرائط کو پورا کرتے ہیں۔ وَمِمَّا رَزَقُتُهُمْ يُنْفِقُونَ اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ پہلے ان کا ایمان کامل ہوتا ہے پھر وہ خدا کی عبادتوں میں مشغول ہوتے ہیں جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے بندوں سے نیک سلوک کرنے لگتے ہیں۔ کیوں؟ اس لئے کہ جس چیز سے انسان کو محبت ہوتی ہے اس سے اور جتنی چیزیں تعلق رکھنے والی ہوتی ہیں ان سے بھی اس کو محبت ہو جاتی ہے۔ کہتے ہیں مجنوں کسی گلی سے گزر رہا تھا کہ اسے لیلیٰ کا کتا نظر آیا وہ اس سے پیار کرنے لگ گیا۔ تو یہ ایک پختہ بات ہے کہ جس چیز کی عزت انسان کے دل میں ہوتی ہے اس سے تعلق رکھنے والی ہر چیز کی وہ عزت کرتا ہے۔ دیکھ لوجس وقت ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت تھی تو لوگ جبہ پہنتے اور عربی و فارسی پڑھتے تھے۔ لیکن اب اگر کوئی جبہ پہنے تو لوگ ہنسیں کہ یہ بھی کوئی لباس ہے اور عربی و فارسی کو تو لغو ہی کہتے ہیں ان کی بجائے انگریزی پڑھنے پر زور ہے۔ پس جب اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم ہو جاتا ہے تو ساتھ ہی اس کی مخلوق کے ساتھ بھی تعلق ہو جاتا ہے اس لئے وہ خدا کے دیئے ہوئے سے خرچ کرتے ہیں اور محتاج اور غریب لوگوں سے حسن سلوک کرتے ہیں ۔ پھر وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ آنحضرت صلی السلام پر جو کلام نازل ہوا اس پر ایمان لاتے ہیں۔ پہلے اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں سے تعلق رکھنے کا ذکر تھا۔ اس پر یہ سوال ہو سکتا تھا کہ کس طرح عمل کیا جائے؟ اس سوال کا جواب سوائے اس کے اور کوئی نہیں ہو سکتا کہ آنحضرت صل الا السلام جو تعلیم لائے اس پر عمل کرو اس لئے يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ اور مِمَّا رَزَقْتُهُمْ يُنْفِقُونَ کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ کیونکہ جب کوئی سچے دل سے ہستی باری تعالیٰ پر ایمان لے آئے گا اور اس کی عبادت کو اپنی عادت میں داخل کر لے گا اور خدا کی مخلوق سے نیک سلوک کرے گا تو فورا اس بات کا بھی اقرار کرے گا کہ میری عقل ایسی نہیں جو ہر بات کے نفع و ضرر تک پہنچ جائے اس لئے کسی رستہ بتانے والے کی ضرورت ہے اور وہ آنحضرت صلی السلام کے سوا کوئی ہو نہیں سکتا۔ پھر وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ آنحضرت صلی لا الہ تم کو مان کر ضرور ہے کہ اور نبیوں کو بھی مانا جائے