خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 428 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 428

خطبات محمود جلد ۴ ۴۲۸ سال ۱۹۱۵ء لڑکوں کو نماز کیلئے کہا جائے تو والدین کہہ دیتے ہیں ابھی بچے ہیں۔مگر آنحضرت سی ایم کی زبان میں وہ اثر تھا کہ دنیا کی وہ قوم جو بچے کہلاتی ہے ان میں وہ روحانیت اور جوش تھا کہ آج کل کے بڑے سے بڑے بہادروں میں نہیں ہے۔بدر کی جنگ کا واقعہ ہے۔عبد الرحمن بن عوف کہتے ہیں اس لڑائی میں میرے پہلو بہ پہلو دولڑ کے تھے۔میں نے خیال کیا کہ آج کی لڑائی بے مزا ہی رہے گی۔( کیونکہ لڑنے میں اسی وقت مزا آتا ہے جبکہ دونوں پہلوؤں میں بھی بہادر لڑ رہے ہوں) میرے دل میں یہ خیال پیدا ہی ہوا تھا کہ ایک نے مجھ سے پوچھا۔چا! ابو جہل جو رسول اللہ کو گالیاں دیتا اور بڑی بھاری مخالفت کرتا ہے کہاں ہے؟ مجھے بتاؤ تا میں اسے قتل کروں۔یہ بڑے بہادر تھے کہتے ہیں میرے دل میں یہ خیال بھی نہیں تھا جو اس لڑکے نے ظاہر کیا۔پھر دوسرے لڑکے نے یہی سوال کیا۔میں حیران رہ گیا۔ابو جہل فوج کا کمانڈر اور قلب لشکر میں کھڑا تھا۔اس کے ارد گرد بڑے بہادر اور زور آور آدمی لڑ رہے تھے۔میں نے اشارہ کر کے بتایا۔اور اشارہ کیا ہی تھا کہ دونوں لڑکے بجلی کی طرح کوند کر اس پر جا پڑے اور راستے کے لوگوں کو چیرتے ہوئے اس تک پہنچ گئے۔گو ایک کا ہاتھ ہے کٹ گیا مگر دونوں نے جا کر ابو جہل کو گرا لیا۔۴۔یہ بچوں کا حال تھا۔عورتوں کا تو اس سے بھی عجیب تھا۔دنیا میں ماتم عورتوں سے ہی چلا ہے کیونکہ یہ کمزور اور ضعیف دل ہوتی ہیں اور کسی صدمہ اور غم سے جلد ہی گھبرا جاتی ہیں۔مگر آنحضرت سالا ای یتیم کی صحبت میں اور ہی نظارہ دیکھنے میں آتا ہے۔اُحد کی جنگ میں یہ مشہور ہو گیا تھا کہ آپ مشہید ہو گئے ہیں۔جب اس لڑائی سے لشکر واپس آ رہا تھا تو مدینہ کی عورتیں مدینہ سے باہر دیکھنے کے لئے نکل آئیں۔ایک عورت نے ایک سپاہی سے پوچھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟ چونکہ آپ سب خیریت واپس تشریف لا رہے تھے اور سپاہی اس طرف سے مطمئن تھا اس لئے اس نے اس بات کا تو کوئی جواب نہ دیا اور اس عورت سے کہا کہ تیرا خاوند ما را گیا ہے۔اس نے کہا کہ میں نے تم سے یہ پوچھا ہے کہ آنحضر صلی لا الہ اہم کا کیا حال ہے؟ اس نے کہا تیرا باپ بھی مارا گیا ہے ( چونکہ اس سپاہی کا دل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بے فکر تھا اس لئے وہ وہی جواب دیتا جو اس کے نزدیک اس عورت کیلئے ضروری تھا ) عورت نے کہا میں نے تو یہ پوچھا ہے کہ آنحضرت مسی یا یہ تم کا کیا حال ہے؟ اُس نے کہا تیرا بھائی بھی مارا گیا ہے۔اس نے کہا میں تم سے یہ نہیں پوچھتی، مجھے یہ بتاؤ کہ آنحضرت کا کیا حال ہے؟ اس نے کہا آپ تو خیریت سے ہیں۔عورت نے کہا کہ اگر ہے