خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 400 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 400

خطبات محمود جلد - سک ۴ لد ۔۔ سال ۱۹۱۵ کے علم کو تو کوئی پا ہی نہیں سکتا جب تک کہ وہ خود ہی اپنے فضل سے یہ نہ کہے کہ آؤ میں تمہیں لکھا دیتا ہوں ۔ اس سے خدا تعالیٰ نے دنیا کو بتایا کہ تم جو اسلام کا مقابلہ کرو گے تو اس کی بناء تمہارے علم پر ہوگی۔ مثلاً کوئی کہے کہ اس مذہب کی کیا ضرورت تھی ؟ اس کتاب کی کیا ضرورت تھی؟ یہ مذہب کس طرح چل سکے گا۔ اس کے متعلق ابتداء میں ہی خدا تعالیٰ نے فرمادیا کہ میں بڑے علم والا ہوں ۔ بھلا میں کسی ایسے مذہب کو بھیج سکتا ہوں جو پھیل نہ سکے اور جس کی دنیا کو ضرورت نہ ہو۔ تو قرآن شریف ایک کامل کتاب ہے جو دنیا کی طرف بھیجی گئی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کوئی کتاب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی ۔ اس میں کتنی طاقت ہے۔ دیکھو سا یہ دار درختوں کے نیچے سے اسلام کا پورا نکلا مگر بڑھتے بڑھتے ایسا بڑھا کہ اس نے سب کو اُکھاڑ کر پرے پھینک دیا اور خود ان کی جگہ لے لی۔ عرب میں مکہ مشرکوں کا مرکز تھا اور یہ پودا وہیں سے نکلا اور اس نے شرک کی جڑوں کو ایسا اُکھیڑا کہ سارے عرب میں اس کا نام ونشان بھی نہ چھوڑا۔ چنانچہ عرب کے مشرکوں کا جو مذہب تھا وہ اب صفحہ دنیا پر کہیں نہیں پایا جاتا۔ پھر ان علاقوں میں جہاں اسلام کی ابتداء ہوئی یہودی اور مجوسی رہتے تھے لیکن انہیں ایسا ایسا اُکھیڑا کہ عرب سے مسیحیت اور مجوسیت کا نام و نشان مٹ گیا حتی کہ مجوسیت کو ب کہ مجوسیت کو ایران ، شام اور مصر میں بھی شکست ہوئی جو علاقے پاس پاس تھے اور جنہوں نے اسلام کا مقابلہ کیا یا یہ کہا کہ ہم اسلام کو کچل ڈالیں گے ان کا تمام علاقوں سے نام و نشان مٹ گیا۔ عرب سے یہودیت ، عراق سے مجوسیت اور مصر سے مسیحیت مٹی غرضیکہ وہ تمام علاقے جنہوں نے اسلام کی مخالفت کی ٹھانی ان کے مذاہب کو جڑوں سے اکھیڑ کر پھینک دیا گیا ۔ کس طرح ؟ تلوار کے ذریعہ نہیں کیونکہ تلوار سے دلوں کی فتح نہیں ہوگی سکتی۔ لیکن اسلام نے جو فتوحات کیں وہ دلوں پر تھیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ ایسی کامل کتاب ہے کہ اپنے کمال سے فتح حاصل کرتی ہے اور جو شخص اللہ کا تقویٰ رکھنے والا ہو وہ اس سے ایک دم جدا نہیں ہو سکتا۔ جدھر یہ لے جائے گی اُدھر ہی جائے گا یہ اس کیلئے راہنمائی اور ہدایت کا موجب ہو جائے گی مگر لفظی متقی نہیں بلکہ وہ جو خدا کی عبادت کرے اور خدا کے تمام حکم ماننے کیلئے تیار رہے اور جسے یقین ہو کہ اعمال کا بدلہ ایک دن ضرور ملے گا ان کو قرآن کے ذریعہ ضرور ہدایت ہو جاتی ہے۔ چنانچہ دوسری جگہ اس مضمون کی خدا تعالیٰ نے اس طرح تشریح فرمادی ہے کہ وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ