خطبات محمود (جلد 4) — Page 398
خطبات محمود جلد ۴ ۳۹۸ (۷۷) قرآن شریف دنیا کیلئے ہدایت نامہ ہے (فرموده ۲۳ جولائی ۱۹۱۵ء) سال ۱۹۱۵ حضور نے تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت فرمائی:۔ الم ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَمِمَّا رَزَقْتُهُمْ يُنْفِقُونَ وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ - أُولَئِكَ عَلَى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ اس کے بعد فرمایا:۔ قرآن شریف خدا تعالیٰ کی طرف سے دنیا کیلئے ایک ہدایت نامہ ہو کر آیا ہے اور ایسے وقت میں آیا ہے جبکہ دنیا میں اور بہت سے مذاہب موجود تھے اور ان کے قدم جم چکے تھے۔ ہزاروں لاکھوں بلکہ کروڑوں آدمی ان کے ماننے والے موجود تھے گویا ان کی جڑیں بہت دور تک پھیل چکی تھیں ۔ اُس وقت ایسے درختوں کے سائے میں اسلام ایک چھوٹا سا پودا اگا اور یہ بات ظاہر ہے کہ بڑے درخت کے نیچے چھوٹے پودے سر سبز نہیں ہوتے اور سائے میں درخت نہیں اُگا کرتا۔ چھت کے نیچے پودا کبھی اس طرح پھل پھول نہیں سکتا جس طرح کھلے میدان میں پھلتا پھولتا ہے۔ وکلاء کالجوں سے نکل کر ہمیشہ ایسے مقام پر پریکٹس شروع کرتے ہیں جہاں زیادہ وکیل نہ ہوں کیوں؟ اس لئے کہ ابتداء میں چونکہ کافی ملکہ نہیں ہوتا لہذا دوسروں کے مقابلہ میں شہرت نہیں ہو سکتی۔