خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 387 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 387

خطبات محمود جلد ۴ ۳۸۷ سال ۱۹۱۵ء پس ایسے لوگوں کا حق ہے کہ وہ اپنی عبادت کو الحَمدُ لِله رَبِّ الْعَلَمِينَ " سے شروع کریں۔کیا ہی تعریفوں اور محامد والا خدا ہے جس نے اپنی مخلوق کو یہ رتبہ دیا کہ قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ ۳ اے رسول! ان لوگوں کو کہہ دو کہ اگر تم اللہ کے ساتھ محبت کرنا چاہتے ہو تو میری اطاعت کرو۔اس سے اللہ تمہارے ساتھ محبت کرنے لگے گا۔پس کیسی خوش نصیب ہے وہ جماعت جس کو ایسا زمانہ نصیب ہوا جس میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ پورا پورا تعلق رکھنے والا ، اس کی محبت اور شفقت کا کلام سننے والا ، اس کی تائید اور برکت حاصل کرنے والا انسان مل گیا۔صحابہ کرام کے بعد بڑے بڑے ولی اور بزرگ گزرے ہیں مگر ان کی یہی خواہش رہی ہے کہ کاش ہم صحابہ میں سے ہوتے۔ہم نے خدا کے فضل سے وہی صحابہ کا زمانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ پایا۔ہم نے آپ کی صحبت اٹھائی اور آپ سے فیوض حاصل کئے۔سب سے بڑا فضل اور انعام یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کسی سے کلام کرے لیکن اس سے دوسرے درجہ پر یہ ہے کہ خدا تعالیٰ سے کلام کرنے والے انسان کے ساتھ تعلق ہو۔کیونکہ نبیوں کو خدا تعالیٰ کے ساتھ بلال واسطہ تعلق ہوتا ہے اور نبیوں کے ماننے والوں کا بالواسطہ۔لیکن میں تو دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت کے بعض آدمیوں کے ساتھ خدا تعالٰی بلا واسطہ کلام کرتا ہے۔یہ ایک بہت بڑا فضل ہے جس کا ہماری جماعت کے لوگوں کو شکر ادا کرنا چاہئیے۔اب دنیا کی طاقتیں انہیں کیا دکھ دے سکتی ہیں جبکہ خدا تعالیٰ ان کا ہو گیا ہے۔جب کوئی کسی کے گھر چلا جائے اور گھر والا اس پر مہربان ہو تو نوکر اور خدمتگار خود بخود جی جی کرتے پھرتے ہیں لیکن اگر گھر والا ناراض ہو تو نو کر بھی بات نہیں کرتے۔پس جس سے خدا راضی ہوا سے کسی کی کیا پرواہ ہو سکتی ہے۔لوگ اسے خواہ پہاڑ سے نیچے پھینک دیں، دریا میں ڈال دیں، آگ میں جلا دیں، اسے کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔مارٹن کلارک کے مقدمہ میں حضرت مسیح موعود نے سب کو فرمایا کہ استخارہ کرو۔میں نے بھی کیا تو دیکھا کہ ایک کوٹھڑی ہے جو او پلوں سے بھری ہوئی ہے لوگ اُن پر تیل ڈال کر آگ لگا رہے ہیں۔میں نے نظر اٹھا کر جو اس کے دروازے کی طرف دیکھا تو یہ لکھا تھا کہ:۔خدا کے پاک بندوں کو کوئی جلا نہیں سکتا آج حضرت مسیح موعود کا یہ مصرعہ سن کر کہ :۔