خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 383 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 383

خطبات محمود جلد - ۴ ۳۸۳ سال ۱۹۱۵ء اس بات پر خدا تعالیٰ نے بہت زور دیا ہے۔ سورہ فاتحہ جو ہر ایک مسلمان نمازوں میں بار بار پڑھتا ہے اور کم از کم دن رات میں تیس دفعہ پڑھتا ہے ، اس میں بھی خدا تعالیٰ نے اهْدِنَا الصِّرَاطَ المُسْتَقِيمَ ۴ کی دعا سکھائی ہے اور اٹھانی نہیں فرمایا۔ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مومن خود غرض نہیں ہوتا۔ چونکہ اس کا فرض ساری دنیا میں تبلیغ کرنا ہے اور لوگوں کے دلوں پر اس کا قبضہ نہیں اس لئے یہ کسی کو زور سے تو منوا نہیں سکتا اور جب تک کسی کی ہدایت کیلئے یہ کوشش نہ کرے اس وقت تک اپنے فرض سے سبکدوش نہیں ہو سکتا اس لئے سورہ فاتحہ میں دعا کیلئے یہ الفاظ رکھ دیئے گئے کہ الہی ! ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔ اس دعا میں ساری دنیا کے لوگ شامل ہو گئے اور اس کو عام کر کے خدا تعالیٰ نے بتا دیا کہ ہر ایک مومن اس طرح دوسروں کی ہدایت کے لئے کوشش کرتا اور اپنے فرض سے سبکدوش ہوتا ہے غرضیکہ ہر ایک مسلمان مبلغ ہے خواہ وہ کوئی کام کرتا ہو۔ ہماری جماعت کے ہر فرد کو چاہیے کہ یہ نہ خیال کرے کہ یہاں سے ہی مبلغین جائیں اور لوگوں کو وعظ و نصیحت کریں بلکہ ہر ایک یہ سمجھے کہ اسلام کی تعلیم سے لوگوں کو آگاہ کرنا میرا فرض ہے اور اسلام کے جھنڈے تلے کھینچ کر لانا میرا ذمہ ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ خدا تعالیٰ نے اھدِنَا سکھلایا ہے، اھدِینی نہیں سکھایا۔ پس جب تک اس طرح تبلیغ کیلئے کوشش نہ کی جائے اس وقت تک کامیابی نہیں ہو سکتی ۔ ہر ایک احمدی یہ سمجھے کہ میں مبلغ ہوں اسے کسی اور کے ذمہ اس کو نہیں ڈالنا چاہیے اور یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ کوئی مبلغ آکر اس فرض کو انجام دے گا۔ ہمارے چند ایک مبلغین ہیں اس لئے یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ تمام دنیا کو یہی تبلیغ کریں ۔ پس کامیاب تبلیغ کا یہی طریق ہے کہ ہر ایک احمدی اپنا فرض سمجھے اس طرح پانچ سات لاکھ افراد مبلغ ہو سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہماری تمام جماعت کو اس بات کی توفیق دے اور تبلیغ کے راستہ میں حائل ہونے والی مشکلات کو آسان کر کے اپنے پاس سے ہی سامان مہیا فرمادے۔ آمین الفضل ۸ - جولائی ۱۹۱۵ ء ) لے اپنے موتی سوروں کے آگے نہ ڈالو متی باب ۷ آیت ۶ بانکیل سوسائٹی انار کلی لاہور ۱۹۹۴ء ۲ ال عمران : ۱۰۵ ال عمران:ااا الفاتحة :