خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 355 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 355

خطبات محمود جلد ۴ ۳۵۵ (۶۹) اللہ کی نعمت سے ہم بھائی بھائی بن گئے ہیں (فرموده ۲۱۔مئی ۱۹۱۵ء) سال ۱۹۱۵ء حضور نے تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت فرمائی:۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُم مُّسْلِمُونَ وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْن قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِةِ إِخْوَانًا وَكُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِّنْهَا۔كَذلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ أَيْتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ پھر فرمایا:۔کسی جماعت کی ترقی کیلئے اس بات کی بہت ضرورت ہوتی ہے کہ اس کے سب افراد آپس میں ایک ہو جا ئیں۔جب تک کوئی جماعت فرد واحد کی طرح نہیں ہو جاتی ، ترقی نہیں کر سکتی خواہ وہ جماعت دینی ہو یا دنیوی۔کیونکہ تمام کامیابیوں اور ترقیوں کیلئے خدا تعالیٰ نے یہ قاعدہ جاری کیا ہوا ہے کہ جب تک ساری جماعت ایک نہ ہو جائے لڑنا جھگڑنا ، دشمنی و نفاق ، حسد و کینہ بغض اور عداوت کو چھوڑ نہ دے، اس وقت تک ترقی نہ کرے جیسے کوئی انسان اس وقت تک کوئی سکھ اور آرام نہیں پاسکتا۔جب تک کہ اس کے تمام اعضاء میں مناسبت اور درستی نہ ہو اور وہ ایک دوسرے کے مُمد اور معاون نہ ہو۔ایسے ہی کوئی قوم اُس وقت تک آرام اور سکھ نہیں پاسکتی جب تک کہ اس کا ہر ایک فرد دوسرے کے دکھ کو اپنا دکھ اور دوسرے کے آرام کو اپنا آرام نہ سمجھے۔دیکھو کسی طبیب کی طبیعت وہاں علاج کرنے۔ނ