خطبات محمود (جلد 4) — Page 332
خطبات محمود جلد ۴ ۳۳۲ سال ۱۹۱۵ء تعامل سے پہنچی ہیں اور یہ بھی حدیث سے زیادہ معتبر ہیں کیونکہ حدیث صرف قول ہے اور وہ عمل ہے۔پھر قول تو ایک دو تین چار یا کچھ اور زیادہ صحابہ کا بیان کردہ ہوتا ہے اور عمل سارے صحابہ نے کیا ہے۔مثلاً ظہر کی چار عصر کی چار مغرب کی تین عشاء کی چار اور صبح کی دورکعتیں فرض کی ہیں۔اب اگر ہم ان کو مکمل در پورے طور پر ایک حدیث سے معلوم کرنا چاہیں تو نہیں کر سکتے اور اگر تمام حدیثوں کو لیا جائے تو وہ بھی دس میں ہی ملیں گی اور تمام صحابہ نے ان کو بیان نہیں کیا ہوگا بلکہ زیادہ سے زیادہ سوڈیڑھ سو صحابہ روایت کرنے والے ہوں گے۔مگر عمل کرنے میں تو سارے صحابہ مشترک ہوں گے کیونکہ حدیث تو کم بیان کرتے تھے اور ایسا کرنا ان کیلئے کوئی ناروا نہ تھا۔مگر نمازیں پڑھنا تو ہر ایک کیلئے ضروری اور لازمی تھا۔اس لئے تمام کے تمام پڑھتے تھے پھر ان کو تابعین نے ایسا کرتے دیکھا پھر ان کو تبع تابعین نے ایسا کرتے دیکھا۔پھر ان کو اگلے آنے والوں نے دیکھا اسی طرح ہوتے ہوتے آج جو رکعتیں ہم تک پہنچی ہیں وہ تیس کروڑ انسانوں سے پہنچی ہیں تو سنت یعنی تعامل قرآن سے اتر کر وہ چیز ہے جو حدیث سے بالا درجہ رکھتی ہے۔کیونکہ حدیث کے چند راوی ہوتے ہیں اس کے مقابلہ میں تعامل کے تمام کے تمام مسلمان شاہد۔پھر حدیث قول ہے اور بعض اوقات قول کا سمجھنا ہی مشکل ہوتا ہے اور اس کے سمجھنے میں بعض وقت غلطی لگ جاتی ہے۔اصل بات کچھ اور ہوتی ہے لیکن سمجھنے والا کچھ اور مجھ لیتا ہے۔تو اول قرآن ہے پھر تعامل اور ان کے بعد حدیث کا درجہ ہے۔حدیث میں بھی جو متواتر ہوں گی وہ مضبوط اور قوی ہوں گی کیونکہ بہت سے صحابہ ان کے بیان کرنے والے ہوں گے۔پھر اس سے کم پھر اور کم درجہ حدیثوں کے ہوتے جائیں گے حتی کہ ضعیف اور موضوع بھی حدیثوں کے درجہ ہوں گے۔ان درجوں کی حدیثوں میں سے جو اعلیٰ درجہ کی حدیثوں کے مقابلہ میں آئیں گی وہ رڈ کر دی جائیں گی، جو تعامل کے خلاف آئیں گی وہ بھی ناقابل قبول ہو جائیں گی اور جو قرآن شریف کے مغائر واقع ہوں گی وہ بھی چھوڑنی پڑیں گی۔سنت کا حدیث سے بالا درجہ رکھنے کی وجہ :۔یہ سچ اور بالکل سچ ہے کہ تعامل کبھی قرآن شریف کے خلاف نہیں ہو سکتا۔ہاں حدیثیں قرآن سے ٹکرا جائیں تو ٹکرا جائیں لیکن تعامل اور قرآن میں کبھی اختلاف واقعہ نہیں ہو سکتا۔اور یہی اس بات کا ثبوت ہے کہ حدیث اور تعامل یا حدیث اور قرآن میں جو اختلاف