خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 319 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 319

خطبات محمود جلد ۴ ۳۱۹ سال ۱۹۱۵ء بھی ہٹا دیتے تھے تا کہ اپنے اور خدا کے درمیان یہ بھی حائل نہ رہے اور یہ بھی روک نہ بنے۔کیوں اس طرح کرتے تھے؟ اس لئے کہ ان کو جو اللہ تعالیٰ کے انعاموں کی رجا تھی اور اس کے فضلوں کی امید تھی اور جو خدا کے وعدے ان کے ساتھ تھے، وہ ان کو آگے ہی آگے لئے جاتے تھے۔واقعہ میں جب کسی انسان کو یہ یقین ہو جائے کہ مرنا کچھ ہے ہی نہیں تو پھر اس کے سامنے دشمن کہاں ٹھہر سکتا ہے۔دیکھو پاگل کو چونکہ اپنی جان کا ڈر نہیں ہوتا اس لئے اس کو دس دس آدمی بھی پکڑتے ہیں تو وہ چھڑا لیتا ہے۔اس میں زیادہ طاقت نہیں آ جاتی بلکہ اس کی عقل پر چونکہ ایسا پردہ پڑ جاتا ہے جو اسے موت سے بالکل بے خوف کر دیتا ہے اس لئے وہ اپنے بچاؤ کا کوئی پہلو مد نظر نہ رکھ کر زور لگاتا ہے اور چھوٹ جاتا ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ کے افضال اور اکرام کا یقین کامل بھی انسان کو موت سے بے خوف کر دیتا ہے۔دیکھو اگر ایک انگارہ پڑا ہوا ہو تو اس کو ہاتھ لگانے سے انسان احتیاط کرتا ہے لیکن جب وہ اسے انگارہ ہی نہ سمجھے بلکہ لعل سمجھے تو پھر احتیاط نہیں کرتا۔اسی طرح جب تک انسان موت کو ایک خطر ناک تکلیف اور دکھ اور مصیبت سمجھتا ہے اس وقت خواہ وہ کتنا ہی بہادر ہومرنے سے پہلو بچاتا ہی رہتا ہے۔لیکن جب وہ یہ سمجھ لے کہ اس موت میں دیکھ نہیں بلکہ عین راحت اور آرام ہے تو پھر اس کیلئے اپنی جان پر کھیل جانے میں کوئی روک نہیں رہ جاتی۔تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے مسلمانو! تم ہر گز سستی اور شعف نہ دکھاؤ بلکہ اپنے دشمنوں کو تلاش کر کے جہاں کہیں بھی پاؤ ان پر حملہ کرو۔اگر جسمانی جنگ ہو تو جسمانی اور روحانی جنگ ہو تو روحانی حملہ کرو۔اور اگر تمہیں دیکھا اور تکلیفیں پہنچتی ہیں تو انہیں بھی پہنچتی ہیں مگر جو امیدیں تمہیں ہیں وہ انہیں نہیں ہیں وَكانَ اللهُ عَلِيمًا حَكِيمًا اور اللہ جاننے والا اور حکمت کے کام کرنے والا ہے۔اگر تم ایسے کمزور ہوتے کہ اس کام کونہ کر سکتے اور تم دشمنوں کے مقابلہ میں تیار ہو جاتے تو تمہارے سپرد یہ کام ہی نہ کیا جاتا۔وہ تو لیم اور حکیم ہے اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ایک انسان کو جس شخص کی طبیعت معلوم ہو کہ وہ ایک من سے زیادہ بوجھ نہیں اٹھا سکتا اس سے دومن بوجھ نہیں اٹھوائے گا۔تو اللہ جو تمام انسانوں کا خالق ہے اور ان کے تمام حالات سے واقف ہے وہ کہاں کسی پر اُس کی طاقت سے زیادہ بوجھ رکھتا ہے۔پس جب خدا ایک قوم کے سپر د ایک کام کرتا ہے تو اس قوم کے کسی فرد کا یہ خیال ہے کرنا کہ ہم تباہ ہو جائیں گے بالکل غلط بات ہے۔پس ایک مومن کیلئے دین کے رستے میں اپنی جان کے لڑا