خطبات محمود (جلد 4) — Page 315
خطبات محمود جلد ۴ ۳۱۵ سال ۱۹۱۵ء مال کے ذریعہ فتح پالیتا ہے یعنی اندر ہی اندر رشوت چلا کر فوج کے افسروں کو اپنے ساتھ ملا لیتا ہے اور وہ صلح کر لیتے ہیں۔تو روپیہ بھی فتح دلا دیتا ہے لیکن صحابہ کے پاس روپیہ بھی نہیں تھا اور یہی وجہ تھی کہ جب صحابه ایران پر حملہ آور ہوئے تو ایرانیوں نے ان کے سامنے یہ بات پیش کی کہ تم فی سپا ہی دو دو پونڈ اور فی سوار چار چار پونڈ اور افسر زیادہ روپے لے لو کیونکہ تم بھوکے مرتے آئے ہو یہ روپیہ لے لو اور یہاں سے چلے جاؤ۔تو صحابہ کی غربت کا یہ حال تھا کہ ایرانی بادشاہ نے ان کو دو دو پونڈ دے کر رخصت کرنا چاہا۔تیسری چیز کامیابی کے لئے فنون جنگ ہوتے ہیں اس سے بھی خواہ فوج تھوڑی ہولیکن وہ ایسی فوج پر جو فنون جنگ کی ماہر نہ ہو غالب آجاتی ہے۔کیونکہ ایسی فوج ایسی ایسی تجویزیں کرتی ہے کہ وہ تو میں جو ایسے ہنر نہیں جانتیں مقابلہ نہیں کر سکتیں مگر صحابہ میں یہ بھی نہیں تھا۔وہ تو عرب تھے اور عرب کے لوگ ایک افسر کے ماتحت رہ کر لڑنا جانتے ہی نہ تھے اور انہیں حاکم اور محکوم کا تعلق معلوم ہی نہ تھا ہر ایک قبیلہ کی الگ الگ حکومت ہوتی تھی۔پھر بعض تو میں لڑائی میں اس لئے بھی کامیاب ہو جاتی ہیں کہ ان کی بہادری اور شجاعت کی پرانی روایتیں چلی آتی ہیں ان روایتوں کو قائم رکھنے کیلئے وہ جان پر کھیل کر کامیاب ہو جاتی ہیں مگر صحابہ میں یہ بھی نہیں تھا۔پھر رعب اور د بد بہ بھی دشمن کو مرعوب کر کے شکست دینے کا باعث ہو جاتا ہے اور اس سے بھی بہادر لوگ کمزوروں سے دب جاتے ہیں۔ایک قصہ مشہور ہے واللہ أعْلَمُ کہاں تک درست ہے کہ ایک چور رستم پہلوان کے گھر آیا اور رستم سے اس کی کشتی شروع ہو گئی اس نے رستم کو گرا لیا اور اس کی چھاتی پر چڑھ بیٹھا۔رستم نے اسے ڈرانے کیلئے کہا کہ رستم آگیا رستم آگیا۔وہ چور یہ سُن کر بھاگ گیا۔دیکھو اس نے رستم کو گرا لیا تھا اور اس کی چھاتی پر بھی چڑھ بیٹھا تھا لیکن رستم کے نام نے اس کو بھگا دیا۔تو رعب کا بھی بڑا اثر ہوتا ہے۔جن علاقوں میں بعض قوموں کا دبدبہ اور رُعب بیٹھا ہوا ہوتا ہے وہاں ان قوموں کا کوئی کمزور آدمی بھی چلا جائے تو بھی لوگ اس سے ڈرتے ہیں لیکن صحابہ میں یہ بات بھی نہ تھی بلکہ اس وقت ایرانیوں کا رُعب تھا اور اہل عرب ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے یہی وجہ تھی کہ ایرانی عرب کے ایک حصہ پر قابض تھے۔غرضیکہ کوئی ایسی چیز جو تھوڑوں کو بہتوں پر غالب کرنے کا موجب ہوتی ہے اور اپنے سے زیادہ لوگوں کو پراگندہ کر دیتی ہے وہ صحابہ کے پاس نہ تھی۔ان کے پاس مال نہیں تھا، سامانِ جنگ نہیں تھا، رُعب نہیں تھا، آباء و اجداد کے کارنامے تاریخی طور