خطبات محمود (جلد 4) — Page 303
خطبات محمود جلد - ۴ ۳۰۳ سال ۱۹۱۵ء ہو کر گمراہ کر دیتے ہیں اس لئے فرمایا کہ اگر تم اللہ کا تقوی اختیار کرو تو نہ صرف یہ ہوگا کہ خدا تمہیں آنے والی مشکلات اور مصائب سے بچالے گا بلکہ تمہیں صداقت کے راستہ سے جو حرمیں اور گناہ روکنا چاہیں گے ان سے بھی محفوظ رکھے گا اور تمہاری پہلی بدیوں کو ڈھانک دے گا۔ وَيَغْفِرْ لَكُمْ اور تمہارے گناہوں کو معاف کر دے گا۔ یعنی بدیوں کا ڈھانپنا یہ نہیں ہوگا کہ ان پر پردہ ڈال دے گا اور نہ یہ کہ لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ کر دے گا تاکہ ان کے سامنے ذلت اور رسوائی نہ ہو بلکہ ان گزشتہ بدیوں او گناہوں کے بدنتائج سے تمہیں بچالے گا وَاللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیمِ ۔ اور یہ تو معمولی باتیں ہیں جو متقیوں کیلئے بیان کی گئی ہیں ورنہ اللہ تو بہت کچھ رکھتا ہے۔ اور یہ جو متقیوں کیلئے تین انعام بیان کئے گئے ہیں۔ اول یہ کہ ہر مشکل سے بچائے جائیں گے۔ دوم یہ کہ ان کے گناہوں کو ڈھانپ دیا جائے گا اور سوم یہ کہ ان کے گناہوں کو عفو کیا جائے گا ۔ یہ اس دنیا کی کے لحاظ سے بیان کر دیئے گئے ہیں ورنہ جو کوئی متقی ہوگا اس کیلئے ہمارے پاس بہت بڑے بڑے انعامات ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے انعامات کے متعلق آنحضرت صلی ایام فرماتے ہیں لا عَيْنَ رَأَتُ وَلَا أذُنٌ سَمِعَت ۳ کہ نہ کوئی آنکھ ہے جو ان کو دیکھ سکے اور نہ کوئی کان جو ان کے متعلق سن سکے یہی وجہ ہے کہ نہ خدا تعالیٰ کے انعام الفاظ میں بیان کئے جا سکتے ہیں اور نہ سزا ہی بیان ہوسکتی ہے کیونکہ انسانی لغت محدود ہے۔ مثلاً درد کا ایک لفظ ہے۔ قولنج کی تکلیف ہو تو اسے بھی درد ہی کہیں گے اور اگر کانٹے کی تکلیف ہو تو اسے بھی درد ہی کہیں گے اور دیوانہ کتے کے کاٹے کی تکلیف کا نام بھی لغت درد ہی رکھتی ہے حالانکہ کانٹے کا درد اور ہے۔ قولنج کا درد اور ہے اور کتے کے کاٹے کا اور ، اور ان میں بہت بڑا فرق ہے۔ الفاظ ان دردوں کو زیادہ سے زیادہ ان الفاظ میں ادا کر سکتے ہیں کہ ” بہت ہی سخت درد مگر جس شخص پر کسی درد کی حالت گزرتی ہے وہی اس کی اصلیت سے واقف ہو سکتا ہے۔ دوسرا جس کو درد نہیں ہے اس تکلیف کو اپنے قیاس میں بھی نہیں لا سکتا ۔ اسی طرح خدا تعالیٰ کی طرف سے جو آرام اور راحت انسان کو ملتی ہے دنیائی نے اس کا آرام اور راحت ہی نام رکھ دیا ہے۔ مگر ہم کہتے ہیں کہ دھوپ سے سائے میں جانے سے بھی آرام ہوتا ہے مگر الفاظ خدا تعالیٰ کی طرف سے ملنے والے آرام اور دوسرے آرام میں کوئی فرق نہیں بتاتے اور نہ الفاظ اس آرام کو جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملتا ہے ادا کر سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم وو