خطبات محمود (جلد 4) — Page 279
خطبات محمود جلد ۴ ۲۷۹ سال ۱۹۱۵ء دوسرا حصہ بندوں سے تعلقات رکھنے کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ پھر اگر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے اَشْهَدُ أن لا إله إلا الله تمام اسلام کی جان ہے اور اس کے دوسرے حصہ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ كَا ذکر بھی اسی میں آ جاتا ہے کیونکہ تمام رسالتیں، تمام کتابیں، تمام احکام خواہ عبادت کے متعلق ہوں خواہ بندوں کے متعلق ، ان کی جڑ اللہ تعالیٰ ہے اور ان باتوں میں اختلاف مختلف معبودوں کے بنانے کی وجہ سے واقعہ ہوتا ہے ۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات بے عیب اور پاک ہے اس لئے اس کی طرف سے وہی مذہب ہو سکتا ہے جو نقائص اور عیبوں سے پاک ہو اور کسی قسم کا اس کے احکام میں اختلاف نہ ہو اور وہ مذہب صرف اسلام ہے۔ کل مذاہب اسی لئے ایجاد ہوئے کہ لا الہ الا اللہ کو لوگوں نے نہ سمجھا۔ ایک نادان انسان لا اله الا الله کے یہ معنی خیال کرتا ہے کہ اللہ کو مان کر اور کسی کے ماننے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن اگر وہ غور کرتا تو اس کو معلوم ہوتا کہ لا إله إلا الله کا ماننا ہی آنحضرت صلا رت صلی لا الہ سلیم پر دلالت کرتا ہے اور اسی کا دلالت کرتا ہے اور اسی کا ماننا حضرت مسیح موعود علیہ احضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ماننے پر دلالت کرتا ہے۔ تو لا إله إلا الله کو جو نادان اس بات کا ذریعہ سمجھتا ہے کہ تمام مذاہب ایک ہوں اسی سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ تمام مذاہب خدا کی طرف سے نہیں ہو سکتے کیونکہ خدا ہر گز مختلف تعلیمیں نہیں دیتا۔ تعلیموں میں تو تب اختلاف ہو کہ خدا بھی مختلف ہوں ۔ کیا یہ ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ ایک نبی مبعوث کرے اور ادھر کہے کہ دنیا اس نبی کو مانے اور اس کے احکام کی فرمانبرداری کرے اور اُدھر کہے کہ دنیا نہ مانے ، یہ ہو نہیں سکتا ۔ پس لا إله إلا الله کے ہی ماننے کا ثبوت ہے محمد صلی شما السلام کا ماننا۔ اور لا اله الا الله کے ہی ماننے کا ثبوت ہے حضرت مسیح موعود کا ماننا کیونکہ ان کے بھیجنے والا ایک ہی ہے اس لئے جس نے ان میں سے ایک کا انکار کیا اس نے خدا کا انکار کیا۔ تو لا إله إلا اللہ میں خدا نے یہ بتایا ہے کہ جب تمہارا تعلق ایک ہی ہستی سے ہے تو ہر ایک وہ چیز جو مجھ سے تعلق رکھتی ہے اس سے بھی تمہیں تعلق رکھنا چاہیئے ۔ معبودانِ باطلہ کے ماننے والوں میں اسی لئے جنگ ہوتی ہے کہ ایک کہتا ہے کہ یہ فلاں معبود کو مانتا ہے اس لئے اس کو نابود کرنا چاہیئے ۔ چونکہ ہندوؤں میں تو یہ قصہ بھی مشہور ہے کہ ایک دفعہ برہما پیدا کرنے والے خدا اور شو مارنے والے خدا کے درمیان ایک انسان کے متعلق ایک لمبا جھگڑا ہوتا رہا۔ شو مارتا اور برہما زندہ کر دیتا تھا۔ تو لڑائی اور فساد اسی سے شروع